Assimsam

الصمصام علیٰ مغیر حکم الاذن العام

(اذنِ عام کے حکم کو بدلنے والے پر ننگی تلوار!)

از:  فقیہ عصر، مفتی اعظم بہار، حضرت علامہ مفتی محمد مطیع الرحمٰن رضوی ،رضوی دارُالافتاء، جامعۃ الخضرا ، مرون، مظفر پور

۹۲/۷۸۶

 ’’کورونا وائرس‘‘ جو اصل میں وبا وعذاب الٰہی ہے، اس موضوع پر سوشل میڈیا میں کئی محاذ کھل گئے۔ ان میں سے مسجد کی تالا بندی اور جمعہ وجماعات نیز ’’اذن عام ‘‘ سے متعلق مختلف نظریے پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا اور واٹس ایپ گروپوں میں وائرل ہونے لگے۔ جامعہ اشرؔفیہ مبارکپور کے مفتی صاحب جو محقق مسائل جدیدہ سے مشہور ہیں، انھوں نے ’’ اذن عام ‘‘ پر اپنی تحقیق میں نئی تشریح پیش فرمادی اور آڈیو، ویڈیو کی ہوڑ شروع ہو گئی۔ موبائل فون کے ذریعہ کثرت سے سوال ہو نے لگے۔ اسی دوران میں نے بھی ایک بیانیہ جاری کیا جس میں یہ تھا کہ:

”علماء اہل افتا اور ذمہ داران ملک وملت کی جوابدہی تھی کہ نماز و دعاء کے فوائد سے ارباب اقتدار کو آگاہ کرتے کہ دوا سے صرف مرض ختم ہوگا اور دعاء سے مرض بھی اوروبا بھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا اور پابندیوں کی حمایت میں زور قلم دکھا کر انھیں تقویت پہنچانے کا کام انجام دیا۔ بہر حال رہا جماعت وجمعہ کا مسئلہ تو اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جتنوں کی اجازت ملے، اتنے ہی لوگ ( مسجد میں ) پنج وقتہ نماز اور جمعہ ادا کریں۔

گھروں میں جمعہ نہیں کہ اذن عام کی شرط فوت ہو رہی ہے۔ یونہی مسجدوں میں بھی امام کے علاوہ تین سے کم نہ ہوں۔ امام ماذون یا مجاز ہو، نیز دروازۂ مسجد بند نہ ہو نہ اپنی طرف سے اذن عام پر پابندی ہو۔ اور جہاں جمعہ صحیح ہو وہاں کی مسجدوں یا گھروں میں ظہر بلا جماعت ہی پڑھیں۔‘‘

اس کے بعد عزیز گرامی مولانا عرفان عالم نظامیؔ، کشی نگر، یوپی، کا پانچ سوالات پر مشتمل استفتاء ملاحظہ ہوا جس میں

 پہلا سوال:  کورونا اور طاعون جیسے امر اض کے متعدی ہونے، نہ ہونے کا۔

دوسرا:  کتاب الفتن کی حدیث، القاعد فیھا خیرمن القائم الخ سے متعدی ہو نے پر تمسک کا۔

تیسرا:  بحالت مذکورہ نمازیوں کو حاضری مسجد وجمعہ وجماعات سے روکنے اور بہ تشریح جدید ادائیگی جمعہ کا۔

چوتھا:  اس مرض میں جان بحق ہو نے والوں کی تجہیز وتکفین اور جنازہ وتدفین کا۔

پانچواں:        فرائض و واجبات مذہبی سے باز رکھنے والے غیر ضروری فرمان کی پاسداری کا تھا۔

راقم الحروف نے اپنے اسلاف واکابر کے ارشادات عالیہ کی روشنی میں پانچوں کے جوابات قدرے تفصیل کے ساتھ نقل کر دیے اور دوران تحریر حتی الامکان ’لاک ڈائون‘ یعنی سماجی دوری کی ہدایت پر عمل بھی کیا اور دوسروں کو اس پر عمل کر نے کی تلقین بھی کی اور میرے اہل خانہ بھی اس پر عامل رہے اور ہیں۔

اسی دوران جامعہ امجدیہ، گھوسی سے حضرت مفتی شمشاد احمد مصباحی اور بہیڑی سے حضرت مولانا مختار احمد رضوی کے فتوے بھی وائرل ہوئے جو اشرفیہ سے جاری شدہ فتوی کے برعکس تھے۔

اس کے بعد اشرفیہ کے مفتی صاحب نے اپنے فتوے کی تائید اور دوسرے فتاوے کی تردید میں دلائل، مضمرات اور درخشاں جلوے کے نام سے ایک تحریر وائرل کی جس میں موصوف نے کتاب الفتن والی حدیث ”القاعد فیھا خیر من القائم الخ” جسے انھوں نے کورونا وائرس کے تعدیہ کی دلیل کے طور پر نقل کیا تھا، اسے بالکل نظر انداز کر دیا۔ یونہی اس مرض میں فوت شدہ اہل ایمان کی تجہیز وتکفین اور جنازہ و تدفین پر کوئی عندیہ ظاہر فرمایا نہ ہی زیر بحث پابندی پر کوئی شرعی حکم بتایا۔ اس طرح تینوں مسائل سے صرف نظر فرمایا۔ البتہ ’’اذن عام‘‘ پر پھر سے غیر ضروری و غیر شرعی طویل گفتگو فرمائی ہے۔ ساتھ ہی ’’تعدیہ‘‘ (مرض کا اڑکر لگنا) اس پر کچھ نئی کچھ پرانی باتیں لکھی ہیں جو علمی فقہی کم، ڈاکٹری ہدایات اور اخباری بیانات پر زیادہ مبنی ہیں۔ جنھیں پڑھ کر اندازہ لگتا ہے کہ وہ میڈیکل کالج سے بھی پی ایچ ڈی ہیں نیز گودی میڈیا کے رکن اور حزب اقتدار کے کارندے ہیں۔

فاقول وباللہ التوفیق:  حدیث “القاعد فیھا خیر من القائم الخ” کو کورونا وائرس کا محمل بتانا، اس کے مورد ومحمل کے خلاف پھیرنا ہے جو زبان تفسیر میں تحریف معنوی ہے کہ مفسر ین کے نزدیک معنی بدلنے کا مطلب عبارت کا وہ مطلب بتانا جو اجماع امت کے خلاف ہو۔ یہودیوں نے کہیں تو لفظ ہی بدل ڈالے تو کہیں معنی ومفہوم۔ گویا انہوں نے تحریف لفظی اور تحریف معنوی دونوں کا ارتکاب کیا، وہ بھی جان بوجھ کر، انجانے میں نہیں۔ قال اللہ تعالیٰ: ویحرفونہ من بعد ماعقلوہ، موصوف نے بھی حدیث کا مطلب، انجانے میں نہیں جان بوجھ کر وہ بتایا جو اجماع کے خلاف ہے۔ اور یہ محض اس ضد میں کہ انھوں نے جو فرمایا وہ صحیح ہے یعنی    ع

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مزاج سے گہری واقفیت رکھنے والے اپنے تجربات کی روشنی میں یوں رقمطراز ہیں:

بعض مسائل میں اعترافِ حق کے باوجود اپنے سابقہ قول کی توجیہات میں بزور علم دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں جس سے ایک عام قاری کی الجھنیں برقرار رہ جاتی ہیں” (غمزۂ چشم ہمزہ)

 یہ تھے ڈاکٹر فضل الرحمن شررؔ مصباحی، سابق صدر شعبۂ معالجات، طبیہ کالج، دہلی یونیورسیٹی کے موصوف کے بارے میں تاثرات۔ آئندہ سطور میں اس کی متعدد مثالیں دیکھنے کو ملیں گی۔

یہاں پر حضرت مفتی احمد یارخاں علیہ الرحمہ کی یہ تحریر بھی بر محل ہوگی، وہ فرماتے ہیں:

“ضدی عالم، منصف جاہل سے بدر جہا بد تر ہے۔ اسی لیے فی زمانہ مناظرے فائدے مند نہیں ہو تے کیونکہ وہاں آبرو اور ضد کا سوال ہوتا ہے۔” ( تفسیر نعیمی اول ص ۵۵۳)

آمدم بر سر مطلب، آن موصوف نے ’’ اذن عام‘‘ سے متعلق اپنے موقف کی تائید میں عقلی، نقلی کل ملا کر چار دلیلیں دی ہیں اور مضمرات کی تشریح وتفہیم کو ’در خشاں جلوے، کا نام دے کر اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔

پہلی دلیل میں درمختار کی ایک عبارت نقل کرکے اس کا ترجمہ پیش کرتے ہیں۔

قال  “کسی دشمن (کے اندیشہ) یا قدیم تعامل کی وجہ سے قلعہ کا دروازہ بند کرنا اذن عام میں مضر نہیں ہے۔

اس لیے کہ اذن عام اہل شہر کے لیے بر قرار ہے اور دروازہ بند کرنا دشمن کو روکنے کے لیے ہے، نہ کہ نمازی کو روکنے کے لیے۔ ہاں اگر دروازہ بند نہ کیا جائے تو زیادہ اچھا ہے۔”

اقول، در مختاؔر وغیرہا اسفارؔ میں غلق باب (دروازہ بند کرنے ) کی حالت میں صحت جمعہ کا جو حکم مذکور ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اقامت جمعہ سے پہلے جتنے مکلفین کو آنا تھا وہ سب آچکے اور اندیشہ ہے کہ عین حالت نماز میں، دشمن حاضرین جماعت پر حملہ کر بیٹھے تو ایسی صورت میں دفاع ناممکن یا بہت مشکل ہوگا۔ لہٰذا اشتغال سے پہلے حالات کو پر امن ومحفوظ کر لیا جائے۔ اس میں یہ کہیں نہیں ہے کہ مقیمین وحاضرین جمعہ میں سے کسی نے چند اشخاص کے علاوہ اوروں کو روک دیا ہو یا دروازہ ان پر بند کیا ہو اگر چہ ایک ہی پر جو اہل جمعہ سے ہو تو پُرظاہر کہ یہ بند کرنا محض خوف دشمن کی وجہ سے ہوا جو بلا شبہ منافی اذن عام نہیں۔ یونہی جب معمول قدیم کے مطابق اہل جمعہ کی حاضری کے بعد  وقت مقررہ پر دروازہ بند ہو جاتا ہو تو اہل شہر اس معمول سے واقف ہو کر بند ہونے سے پہلے پہنچ جائیں گے اور دروازہ بند ہونا ان کیلئے مانع اذن نہ رہا۔ پھر وہاں یہ بھی نہیں کہ اتنے ہی اور یہی منتخب افراد آئیں گے تو کسی طرح یہ بندش اذن عام کے منافی نہیں۔ شامی سے فتاویٰ رضویہ میں ہے: ان الاذن العام ان لا یمنع احد اممن تصح منہ الجمعہ، کما لا یخفی۔ اذن عام یہ ہے کہ ہر اس شخص کو نہ روکا جائے جس سے جمعہ کی ادائیگی صحیح ہو۔ اسی میں ہے وفی در المختار یمنع منہ ( ای من المسجد) کل موذ و لو بلسانہ، مسجد سے ہر اذیت دینے والے کو منع کیا جائیگا کہ روکنا مطابق شرع ہے منافی اذن نہیں، اور اگر ایسا نہیں بلکہ یہ لوگ محض ظلماً بلا وجہ یا براہ تعصب روکتے ہیں تو بلا شبہ ان کا جمعہ باطل کہ ایک شخص کی ممانعت بھی اذن عام کی مبطل، اور یہاں تو ایک نہیں انیک کو روکا جا رہا ہے پھر بھی اذن عام حاصل؟ اس پر اگر یہ کہا جائے کہ، روکنے والے ظالم ومتعصب نہیں بلکہ انتظامیہ یا مصلیان محلہ یا بانیان مسجد ہیں، اور ان کا روکنا ظلماً یا براہ تعصب نہیں، مگر اس میں کیا شک کہ ظلم وتعدی پر مبنی فرمان کو مقدور بھر احتجاج کئے بغیر جائز مان کر نافذالعمل کرانے میں تعاون کیا، قال علیہ السلام من مشیٰ مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد اخرج ربقۃ الاسلام عن عنقہ، اب یہ روکنا خواہ بذریعہ اعلان ہو یا دروازہ مسجد بند کر کے ہو۔

دروازہ بند کرنے کا مسئلہ ایوان شاہی یا قلعہ سے متعلق تھا اور وہ بھی مشروط کہ مصلیان جمعہ اس میں داخل ہونا چاہیں، پھر داخل ہولیں اور ان سب کے داخلہ کے بعد باب قلعہ بند ہو، تو اس صورت میں انھیں روکنا نہیں مانا جائیگا۔ طحطاؔوی علی الدرمیں ہے حتی لوارادوا الصلوٰۃ داخلھا ودخلو ھا جمیعا قبل الغلق لم یمنعوا، ہندیہ و محیط کی محولہ عبارت اسی کی تفریع کر رہی ہے فان فتح باب الدار واذن للناس اذنا عا ماجازت صلوتہ، شھد ھا العامۃ او لم یشھد ھا، یعنی باب محل کھول دیا اور عام اجازت دے دی تو جمعہ جائز ہوگا خواہ عام عوام حاضر ہوں یا نہ۔ اگر دروازہ کھولا ہی نہیں بلکہ تمام دروازے بند کر دیے تو امیر و درباری کسی کا جمعہ نہ ہوگا۔ (جلد ثانی ص ۲۸۵) جبکہ قلعہ و قصر شاہی کا بنیادی مقصد جمعہ وجماعت نہیں اور یہاں تو تعمیر مسجد کا مقصد ہی محض عبادت واقامت جمعہ وجماعت ہے۔ اس کا دروازہ بند کرنا اس سے سخت تر۔

قال، “اس پر کلام یہ کیا گیا ہے کہ دشمن کے حملہ کا یقین یا ظن غالب ہو تو دروازہ بند کرنا جائز ہوگا اور یہاں تو نمازیوں میں کورونا وائرس کا وجود موہوم ہے، لہٰذا اس کی بنا پر دورازہ بند کر نے کی اجازت نہ ہوگی۔”

اقول یہ پیراگراف کسی اور فتوے کا ہوگا میرے فتوے میں صاف صراحت ہے کہ:

رب رحمن و رحیم رحمت فرمائے ان فقہائے کرام پر جنھوں نے برسہا برس پہلے خاص مسجد جامع ہی نہیں بلکہ قلعہ و قصر شاہی تک کے لیے اذن عام کا مفہوم سمجھا دیا کہ امیرالمؤمنین قلعہ یا اپنے محل ( ایوان امارت) میں داخل ہو اور دروازہ بند کرلے اور اپنے ساتھ والوں کے ساتھ جمعہ پڑھ لے تو جمعہ نہ ہوگا ( خلاصۃ الفتاویٰ ص ۱۴۹) ہاں اگر دروازہ کھولے رہے اور داخلہ کی عام اجازت دے دے تو جائز ہے۔”

اور دربارۂ مسجد ایذاء وخوف فتنہ کی بات یہ کہا تھا:

“وہاں اندیشہ فتنہ ملحق بالیقین ہے اور موذی بھی معلوم و متعین جس سے تقلیل جماعت بھی متیقن ہے اور یہاں سب مفقود یا کم از کم موہوم۔”

مطلب یہ کہ عورتوں کی حاضری سے ہونے والا فتنہ ملحق بالیقین ہے اور موذی یعنی آوارہ  و اوباش، بدزبان وبد معاش بھی حاضرین مسجد کو معلوم ومتعین، جبھی تو روکیں گے، ایسی صورت میں تقلیل جماعت مشتبہ کہاں رہی؟ اور مقصود شرع اکثار جماعت ہے لہٰذا ایسوں کی ممانعت مخل اذن عام نہیں، اسی حکم میں گندہ دہن اور پیاز کھا کر بو زائل کئے بغیر آنے والا بھی داخل ہے۔

اسی طرح اگر کسی کا وائرس زدہ ہونا معلوم ہو تو اسے بھی روکا جائے گا لیکن خواہی نخواہی عام مصلیان مسجد کو روک کر ایک مخصوص تعداد متعین کرکے دروازۂ مسجد بند کر لینا یا اپنی طرف سے بذریعہ اعلان باقیوں کو روک دینا، مبطل اذن عام نہ ٹھہرے تو کیا ایک ایک کرکے سب کو روک دینے کا نام منع اذن عام ہوگا؟

قال،    (الف)    “لو لم یغلق لکان احسن، دروازہ بند نہ کیا جائے تو احسن (زیادہ اچھا) ہے۔” اس کا مطلب یہ ہوا کہ دروازہ بند کرنا، حسن (اچھا) ہے۔ احسن ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دروازہ کھلا رکھنا شبۂ عدم اذن سے بعید تر ہے۔ دشمن کے حملے کا یقین یا ظن غالب ہوتا تو دروازہ بند کرنا صرف احسن نہ ہوتا بلکہ واجب ہوتا۔ طحطاوی علی الدر، ج۱، ص ۳۴۴ کے ایک جزئیے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، عبارت یہ ہے۔

اما اذا کان لمنع عدو، ویخشی دخولہ وھم فی الصلوٰۃ فالظاہر وجوب الغلق۔

ترجمہ، جب دروازہ بند کر نے سے مقصود دشمن کو روکنا ہو کہ عین حالت نماز میں دشمن کے آنے کا خطرہ ہے تو ظاہر یہ ہے کہ دروازہ بند کرنا واجب ہے۔

یہاں اذا کی وجہ سے ’خشیت‘ نے گمان غالب کا فائدہ دیا، تو اس عبارت کا حاصل یہی ہوا کہ نماز کی حالت میں دشمن کے آجانے کا ظن غالب ہو تو دروازہ بند کر دینا واجب ہے۔ لہٰذا عیاں ہوگیا کہ درمختار وغیرہ میں جہاں دروازہ بند کرنا احسن بتایا گیا ہے وہاں دشمن سے حملے کا یقین یا ظن غالب نہیں ہے”۔

اقول،  یہاں پر مسئلۃ الباب ’اذن عام‘ ہے کہ کس صورت میں اذن عام باقی رہے گا اور کس صورت میں نہیں۔ لہٰذا حسب معمول دروازہ بند ہو یا اندیشہ فتنہ یا خوف دشمن وایذاء موذی یا ہمچودیگر اعذار مقبولۃ الشرع کی وجہ سے ،اذن عام، باقی رہے گا۔ دروازہ بند کرنا کب اور کہاں جائز ہے اور کہاں مکروہ و ناجائز، ان کا محل مسائل باب ہیں جہاں تفصیل آئیگی۔ یہاں تو یہ اجمالاً وضمناً مذکورہوا۔ اور حق یہ ہے کہ ’لکان احسن‘ فریق مخالف پر اس کے خلاف حجت ہے کہ معمول کے مطابق دروازہ بند کرنے کی صورت میں اگرچہ ،اذن عام، کی شرط کا انتفا نہیں ہوتا، تا ہم دروازہ کھلا رکھنا ،احسن، زیادہ اچھا ہے کہ یہ شبہ عدم اذن سے بعید تر اور محفوظ ہے کیونکہ ،اذن عام، بوقت نماز، شرط ہے، قبل نماز نہیں کہ مقصدِ اذن ،اعلان واشتہار ہے اور دروازہ، وقت نماز یا قدرے قبل ہی سہی، بند ہو جانے پر،ندا، سن کر واردین کے لیے دخول نا ممکن ہو گا اور یہ ممانعت حالت نماز میں متحقق ہوگی۔ اس طرح یہ اذن بھی عند البعض محل نظر رہا، اس تقدیر پر پانچ افراد والا ،اذن، تومزید ناقابل اعتبار رہا، رد المحتاؔر، میں ہے (لکان احسن) لانہ ابعد عن الشبھۃ لان الظاہر اشتراط الاذن وقت الصلوٰۃ لا قبلھا لان النداء للاشتہار کما مر، وھم یغلقون الباب وقت النداء اوقبیلہ فمن سمع النداء واراد الذھاب الیھا لا یمکنہ الدخول، فالمنع حالۃ الصلوٰۃ متحقق (ج۳،ص ۲۶(

قال، “بعض کلامی مسائل کے سوا دیگر ابواب میں صرف عقلی شبہ معتبر نہیں کہ وہ محض وہم ہے، ہاں شبہ کے ساتھ کوئی قرینہ پا یا جائے، مثلاً بادشاہ یا حاکم سے عداوت رکھنے والے اس شہر میں پائے جاتے ہیں تو یہ شبہ ناشی عن دلیل ہوگا اور باب ضرر میں اس کا اعتبار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں باب مسجد بند کرنا جائز ہوا، شبہ محض یا وہم محض ہوتا جو بس ایک ذہنی پیداوار ہے تو اجازت نہ ہوتی۔”

اقول (۱لف)  بات چل رہی ہے باب قلعہ یا قصر شاہی کی، باب مسجد، کا ذکر کیسے آگیا، اور دوسری بات تھی بادشاہ یا حاکم سے عداوت رکھنے والوں کی، یہی وجوہ ہیں کہ بادشاہ کو خوف دشمن ہو تو باب قلعہ کا بند کرانا یا معمولاً بند ہونا ،اذن عام، کا مبطل نہیں۔ اس کے برعکس کہ شہر میں اس کے دشمن ہیں اورا س کی حاضری مسجد پر ان کا خطرہ بھی موجود ہے پھر بھی باب مسجد بند نہیں کیا جائیگا، ہاں بادشاہ وامیر کو رخصت ہو گی کہ وہ حاضر مسجد نہ ہو تو باب مسجد کا اضافہ مفتی صاحب کا الحاق ہے۔

)۲( تنزلاً، گویا ان کے نزدیک پانچ افراد کے سوا جتنے ممنوع الدخول نمازی ہیں ان میں کورونا وائرس کا شبہ محض یا وہم محض نہیں بلکہ یہ شبہ ناشی عن دلیل ہے، لہٰذا ان کا روکنا درست بلکہ واجب ہے کیونکہ ثابت ہو چکا کہ روکنا انھیں کو ہے جن سے اندیشہ ضرر ہے، ان کو نہیں جن پر اندیشہ ضرر ہے۔ رد المحتاؔر میں ہے، والذی یضر انما ھو منع المصلین لا منع العدو۔۳، ص ۲۵)   ع  بریں عقل ودانش بیاید گریست

تو شبہ ناشی عن دلیل کہا جائے یا مظنون بظن غالب مآل ایک ہی ہے ولہٰذا اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے فرمایا:

دیکھنا چاہیے کہ وہ شخص فی الواقع شریر ومفسد و موذی ہے کہ اس کے آنے سے اندیشہ فتنہ ہے۔”

بہر حال اس پر سارے فقہائے کرام متفق ہیں کہ منع دخول وشرکت جماعت کا تعلق عدو، موذی، اختلاط زن، ورود مریض سے ہے نہ کہ عام مصلیان مسجد سے۔ لا المصلی، یا لا للمصلی کا ماحصل یہی ہے۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ اشرفیہ کے فتوے پر عمل کی صورت میں اذن عام، جو شرط صحت جمعہ ہے، باقی نہیں رہتا اور بغیر وجود شرط، وجود مشروط نہیں کہ اذا فات الشرط فات المشروط، تو جمعہ کا فوت ہونا لازم آیا اور بنام جمعہ دو رکعت پڑھنے سے فرض ظہر ساقط نہیں ہوا۔ ایسی صورت میں ترک فرض کا ذمہ دار وہ ’شاشنک‘ مفتی وقاضی بھی ہے جس نے غلط مسئلہ بتایا۔   ع

خود غلط، انشاء غلط ، املا غلط (لا حول ولا قوۃ(

قال  (ب)  “جب حکم مشتق سے متعلق ہوتا ہے تو ماخذ اشتقاق حکم کی علت ہوتا ہے۔ جمعہ کے لیے جماعت شرط ہے، جس کے لیے امام کے سوا کم از کم تین نفر ہونا ضروری ہے، اس لیے یہاں جماعت سے ممانعت کو بھی نماز سے ممانعت کے حکم میں شامل کیا ہے۔”

اقول ( الف)  اس سے یہ استدلال مقصود ہے کہ باب قلعہ کا منع عدو کے لیے بند کرنا منع مصلیان یعنی منع صلوٰۃ (نماز) نہیں بلکہ عدو ہی کو روکنا ہے، ہاں دروازہ بند ہونے سے معمولی عقل رکھنے والا بھی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ نماز یا نمازیوں کو روکنے کے لیے ہے مگر موجودہ حالات میں دروازہ بند کرنے کا مقصد، نمازیوں ہی کو روکنا ہے۔ خلاصہ یہ کہ فعل منع کا اثر و وقوع، موذی دشمن فتنہ و ایذا پر ہونا چاہیے نہ کہ ان پر جو شرع کی طرف سے ممنوع نہیں ہیں۔

)ب)   جب حکم مشتق سے متعلق ہو تو ماخذ اشتقاق حکم کی علت ہوتا ہے اور اگر حکم خاص ماخذ اشتقاق پر ہوتو کس سے متعلق ہوگا؟ حدیث لا عدوؔی، میں لائے نفی جنس، مشتق نہیں، ماخذ اشتقاق پر ہی داخل ہے مگر موصوف نے اس میں تعدیہ مرض کی تخصیص فرما کر مطلق کو مقید کیا اور مراد تعدیہ جراثیم مرض لیا، جس کی بحث عنقریب آرہی ہے۔

)ج)  جماعت صحت جمعہ کے لیے خود ایک شرط ہے اور اذن عام بذات خود ایک مستقل شرط ہے۔ پانچ افراد کو اجازت دے کر صحت جمعہ کا حکم دینا کوئی اجتہادی کارنامہ نہیں۔ بحث تو اذن عام کے مذکورہ صورت میں صحیح نہ ہونے پر ہے۔ تو اگرچہ تحقق جماعت، امام کے علاوہ تین افراد سے ہو جائے گا مگر صحت جمعہ کی ایک مستقل شرط ،اذن عام، فوت ہو رہی ہے، جس طرح اذن عام ہو مگر جماعت تین سے کم افراد پر مشتمل ہو تو اب شرط فوت ہونے  کے باعث جمعہ نہیں ہوگا، فلیتأمل۔

قال:  “علت منع اگر نمازیا لازم نماز ہو تو اذن عام میں مضر ہوگا اور اگر یہ نہ ہو بلکہ اندیشہ فتنہ و ایذا وغیرہ ہو تو اذن عام میں مضر نہ ہوگا”۔

اقول :  شررؔ مصباحی صاحب کے حوالہ سے گزر چکا کہ موصوف “اعتراف حق کے باوجود اپنے سابقہ قول کی توجیہات میں بزور علم دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں۔”

یا تو معاملہ یہ ہے کہ خود مفتی صاحب اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ نعمت تفقہ سے محروم ہیں کہ یہ اسے ملتی ہے جس کے ساتھ اللہ عزوجل ارادۂ خیر فرماتا ہے قال علیہ السلام، من یرد اللہ بہ خیراً یفقہہ فی الدین۔

اب ایک مثال ملا حظہ ہو، زید مثلاً موذی ہو جس سے تقلیل جماعت کا اندیشہ ہے اور عمرو، بکر وغیرہ موذی نہیں، ایک ہی مسجد میں یہ سب داخل ہوں تو روکا کسے جائے گا؟ زید کو نہ کہ عمرو بکر وغیرہ کو۔ اب کوئی قائل یہ کہے کہ زید کا روکنا، معاذ اللہ اسے نما ز سے روکنا ہے، یہ کسی طرح درست نہیں کہ اس کی وجہ سے دوسرے شرفا اپنی آبرو بچانے کے لیے مسجد جانا چھوڑ دیں گے، لہٰذا انہیں شامل کرنے کے لیے زید کو روک دیا جائیگا جس کی شرع مطہر نے اجازت دی اور موذی (زید) کی ایذا، اسے روکنے کا سبب بنی۔ یہاں موذی مشتق ہے اور اس کی علت، ایذا جو ماخذ اشتقاق ہے، تو علت منع بلا شبہ نماز یا لازم نماز نہیں۔ لہٰذا اس کی ممانعت مضر اذن عام بھی نہیں۔

اسی طرح یہ فتویٰ دیا جاتا کہ جو کورونا رسیدہ ہیں، اگر چہ مشتبہ ہی سہی، وہ مسجد میں نہ جائیں، تو یہ روکنا نماز سے روکنا نہ ہوتا بلکہ اس کی ،علت منع، اس کا مرض یا وائرس قرار پاتا۔ پھر کسی خادم فقہ وافتاء کو اس پر اعتراض نہ ہوتا، مگر یہاں تو اسے روکا جارہا ہے جو نہ دشمن ہے نہ فتین ہے نہ موذی ہے نہ گندہ دہن وغیرہ کچھ بھی نہیں تو انھیں کیوں ممنوع قرار دیا گیا؟

قال۔  “اور کھلی بات ہے کہ حکومت ایک محدود تعداد میں جماعت نماز وجمعہ کی اجازت دے رہی ہے اور اس سے زائد کو اس وجہ سے روک رہی ہے کہ ان سے وائرس پھیلنے کے خطرات زیادہ ہیں اور یہ وائرس زیادہ بھیڑ بھاڑ اور قرب واختلاط سے ہی بڑھ رہے ہیں تو یہاں مخالفت کی علت نماز ولازم نماز نہیں بلکہ ایک بھیانک اور مہلک وائرس ہے۔”

اقول۔  جب خود قاضی وسلطان یا اس کا ماذون ومجاز جو صحت جمعہ کی شرائط سے ایک شرط ہے، وہ بھی دروازہ بند کردے اور بواب ودربان کو دروازہ پر بیٹھا دے کہ وہ اہل جمعہ کو داخلہ سے باز رکھے تو ایسی صورت میں جمعہ نہ ہوگا کما مر، اور ابھی گزرا کہ وہ خود شرائط صحت جمعہ سے ایک شرط ہے اور اس کا مقصد لوگوں سے جمعہ فوت ہو نے کو بچانا ہے اور تالا بندی سے جمعہ فوت ہو رہا تھا تو تالا بندی قادح اذن عام قرار پائی اور جمعہ باطل ٹھہرا تو حکمران انجان کا غیر شرعی فرمان وہ بھی خلاف فقہ وحدیث و قرآن کیونکر حجت ہوگا؟

ردالمحتار میں ہے  وان لم یفتح ابواب الدار وغلق الابواب واجلس البوابین یمنعوا عن الدخول لم تجز لان اشتراط السلطان للتحرز عن تفویتھا علی الناس وذالایحصل الابالا ذن العام۳، ص ۲۶(

ان تصریحات وترجیحات اور آفتاب نیم روز کی تابانیوں کے سامنے قائلین جواز کے دلائل، مضمرات اور درخشاں جلوؤں کی کیا حیثیت؟

رہی بات ‘بھیانک اور مہلک وائرس’ کی تو اس کی حیثیت زیا دہ سے زیادہ اسبا ب کی ہے اور یہ مسلمات سے ہے کہ اسباب موثر نہیں، موثر تو مسبب الاسباب ہی ہے اور نماز وجماعت اور جمعہ، مسبب الا سباب کو راضی کرنے کے اسباب، تو یہ راستہ کورونا وائرس کو بھگانے کانہیں اسے دعوت دینے کا ہے۔   ؎

ترسم نرسی بہ کعبہ اے اعرابی

کیں رہ کہ تو میروی بہ ترکستان ست

اور اوپر سے وہ سوال اپنی جگہ برقرار رہا جو اللہ کے حبیب، کائنات کے طبیب نے فرمایا، فمن اعدی الاول؟

قال۔  (ج)  “تو اصل علت خوف دشمن ہے”۔

اقول۔  اور وہ مفروضہ دشمن، کورونا وائرس ہے جو باب مسجد بند ہونے پر حملہ آور نہیں ہو سکتا۔

قال ۔  “یہاں یہ امر بھی مخفی نہ رہے کہ، جو چیز ضرر پہونچا ئے وہ ’’عدو‘‘ کے حکم میں ہے۔ لہٰذا عدو والے جزئیے سے وائرس والے مسئلہ میں استدلال بجا ہے”۔

اقول۔  کیونکہ کورونا وائرس مسلمان ہے اور وہ مسلمان بالخصوص نمازیوں کا دشمن ہے جیسے صاحب فتویٰ جمعہ وجماعت کے دشمن ہیں، تو اسی استدلال سے ان پر بھی باب مسجد بند کرنا مبطل اذن عام نہ ہوگا۔

قال۔  “دروازہ بند کرنے کے جواز و عدم جواز میں مسجد اور قلعہ کے درمیان فرق نہ کیا جائے۔”

اقول۔   کیونکہ  ع  مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔

البتہ فقہائے کرام نے جو اذن عام کی تعریف کی ہے وہ قدیم ہوگئی اور اس وقت منصب اجتہاد آن بدولت کو حاصل ہے۔ اس لیے اس میں ترمیم کا حق بحق جناب محفوظ۔

قال۔    “عورتوں کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے مسجد آنے کی ممانعت ہے پھر بھی اذن عام بر قرار اور جمعہ صحیح ہوتا ہے، ویسے ہی وائرس سے اندیشہ فتنہ و ضرر کے باعث عامۂ ناس کو ازدحام سے ممانعت ہے اور اس سے اذن عام پر کوئی اثر نہ پڑے گا اور جمعہ صحیح ہوگا۔”

پیراگراف  (ب)  میں بتایا گیا کہ:

“مطلق ازدحام سے کراہت کی وجہ سے ممانعت، لازم نماز سے ممانعت ہے مگر جو ازدحام لازم نماز ہے وہ باب جمعہ میں ایک امام اور تین مردوں کی جماعت ہے۔ اتنے افراد شرط جمعہ پائے جانے کے لیے شرط ہیں اور ہمارے مسئلۂ دائرہ میں مطلق ازدحام یا جماعت سے نہ کراہت ہے نہ ممانعت بلکہ اس کی تو اجازت ہے۔ ہاں کثرت ازدحام سے نامعلوم افراد میں وائرس پھیلنے کے اندیشہ سے ممانعت ہے کہ یہ کنٹرول سے باہر ہوگا”۔

اقول ۔  اس تمہید پر دلیل دوم کی بنیاد قائم کی گئی۔ جدالممتار میں مطلق ازدحام کی ناپسندیدگی کے باعث بھیڑ کی ممانعت کو مانع اذن عام قرار دیا گیا ہے مگر آن بدولت نے اس کی دو قسمیں بنادیں(۱) ازدحام (۲) کثرت ازدحام، دوسری جدت یہ دکھائی کہ امام کے علاوہ تین افراد کو لازم نماز (جمعہ) قرار دیا، حالانکہ یہ تعداد لازم نماز نہیں۔ لازمؔ جماعت جمعہ ہے اور جماعتؔ لازم جمعہ ہے اور یہ تعداد جانب اقل تومنصوص ہے۔ جانب کثرت کی کوئی تحدید نہیں،  بلکہ فقہاء کرام نے صراحت فرمادی کہ واردؔین میں سے ایک کی ممانعت بھی مبطل اذن عام ہے۔

رہا کثرت ازدحام سے نامعلوم افراد میں انتشار وائرس کا اندیشہ، تو وہ ازدحام قلیل میں بھی برقرار ہے۔ حیرت ہے کہ اپنے موقف پر نظرثانی کرنے کے باوجود اس نکتہ میں تمیز نہیں کر پا رہے ہیں کہ شرع مطہر نے ممانعت کی اجازت کس کے لیے دی تھی اور ممنوع کسے قرار دیا جارہا ہے؟

دلیل دوم میں اندیشۂ فتنہ کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عورتوں کی ممانعت پر استدلال کر تے ہوئے لکھتے ہیں:

قال   “فتنہ عورتوں سے بھی ہو سکتا ہے اور عورتوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ عبارت دونوں کو عام ہے اور خیر القرون میں دونوں طرح کے فتنے نہ واقع تھے نہ مظنون بظن غالب بلکہ مشکوک ومشتبہ تھے۔ ہماری گفتگو اسی قرن مقدس تک محدود ہے۔ خدارا آج کے زمانے پر اس زمانہ خیر کو قیاس نہ کیا جائے۔”

اقول۔  جب یہ تسلیم کہ فتنے دونوں طرف سے متوقع تھے اور یہ بھی معلوم کہ روکا گیا صرف عورتوں کو، کیونکہ انھیں نہ روکا جاتا تو اختلاط ختم نہ ہوتا لہٰذا ان کے ممنوع ہو نے سے فتنہ کی جڑ ‘اختلاط’ بھی ختم ہوگا اور فتنہ بھی، ولہٰذا فتح الباری میں اختلاط کو اسباب فتنہ میں شمار فرمایا، حیث قال وکذا الاختلاط بالرجال۲، ص ۴۹۷(

نیز عورتوں کی ممانعت سے مساجد کی آبادی، مردوں کی ممانعت کے مقابلے میں کم متاثر ہوئی اور فتنہ کا سد باب بھی ہوگیا اور شرع مطہر نے اس کا لحاظ فرمایا ہے کہ فائدہ کم ہو اور نقصان زیادہ تو ترجیح منع کو ہوگی۔ قال تعالیٰ  واثمھما اکبر من نفعھما، اور قاعدہ ‘دارالمفاسد اولی من جلب المصالح’ میں بھی یہ حکمت مضمر ہے کہ جہاں مفاسد ومصالح متعارض ہوں تو حصول منافع سے ازالہ واماطتِ مفاسد اولیٰ ہے۔ اس صورت میں اگرچہ بظاہر نفع منتفی ہے مگر در حقیقت دفع مفسدہ ہی جلب مصلحت ہے جو زوال فساد کےبعد نظر آئیگا، اسی لیے ارشاد ہوا اذا امرتکم بشئی فاتو امنہ ما استطعتم واذا نھیتکم عن شئی فاجتنبوہ۔ یعنی امتثال معروف، حسب استطاعت کرو مگر ارتکاب منہیات سے باکلیہ بچو۔

حاضری مسجد سے عورتوں کی ممانعت ایک عظیم فتنہ کو روکنے کی بنیاد پر مبنی تھی اور یہ فتنہ وہ تھا جس کا تعلق کبائر سے تھا اور اس کا اثرِبد نسل و نسب کی پاکیزگی تک کو نیست ونابود کردیتا۔ ایسی جگہوں پر ممانعت، بعد وقوع فتنہ کس کام کی؟ لہٰذا سدباب فتنہ کے لیے یہ حکم دیا گیا۔ پھر اس ممانعت سے جمعہ و جماعات جو شعار اسلام سے ہے، اس پر بھی فرق نہ آیا، اور فتنے، اگرچہ واقع نہ تھے مگر ان کے مظنون بظن غالب ہونے کا انکار کہاں سے مستفاد؟

بلکہ فتاویٰؔ رضویہ کی محولہ عبارت اسی طرف ناظر، ‘لما فی خروجھن فی الفساد’ سے فساد بعض ہی مراد اور اسی سے منع کل مستفاد، نہ کہ صرف فساد والیوں پر قصر، ارشاد فلیتأمل۔

چلیے، مشکوک ومشتبہ ہی مانیے، فتنہ، مشکوک ومشتبہ ہو یا مظنون بظن غالب، ہر دو صورت میں اس (منع) کا محل، صالحین وصالحات نہیں بلکہ خاص ‘اندیشہ نفس فتنہ’ ہے۔ ترتیب صفوف کو دیکھ لیجئے، پہلے مرد، پھر بچے، پھر خنثی پھر عورتیں۔

پھر اندیشہ فتنہ کا تعلق محض ان کے قول وفعل ہی سے نہیں بلکہ ان کی فطری ساخت سے بھی ہے، اسی لیے اور تو اورخاص امھات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھن کے لیے حکم احکم الحاکمین موجود ‘وقرن فی بیوتکن’ اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔ حتی کہ عفیفہ ضعیفہ کو بھی حج فرض کے لیے بھی بے شوہر یا بلا محرم جانا حرام، اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں، “یہ عفیفہ ہے تو جس سے اس پر اندیشہ ہے وہ تو عفیف نہیں۔”

تو ثابت ہوا کہ اعتبار اندیشۂ فتنہ کا ہے، چاہے جس طرف سے ہو، صحابہ وصحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے حوالہ سے اس طرح کا سوئے ظن کیا اس کا شبہ بھی قلب مومن پر گراں ہونا چاہیے مگر زمانۂ صحابہ کرام اور خود زمانہ اقدس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام میں منکرین ومنافقین کونسی کسرچھوڑنے کو تیار تھے؟ تو کیا مانا جاسکتا ہے کہ ان سے اندیشۂ فتنہ نہ رہا ہو؟ اور کیا حکم ممانعت صرف وہیں کے لیے خاص تھا؟

حدیث تویہ بھی بتاتی ہے کہ جیسے جیسے اندیشۂ فتنہ بڑھتا گیا، اس سے بچنے کی حکمت عملی بھی بدلتی گئی۔ ایک وقت تھا جب عورتوں کی صفیں پیچھے ہوتی تھیں مگر حاضری پر پابندی نہیں تھی۔ ایک وقت وہ آیا کہ عورتوں کو مسجدوں میں دیر تک رکنا منع ہوا اور نماز فجر میں بلا تاخیر جلد واپس ہونے کا حکم ہوا۔ پھر صرف رات اور اندھیرے میں آنے کی اجازت رہی اور ایک وقت ایسا آیا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےعورتوں کے بناو سنگار اور فاخرانہ وجاذبانہ ملبوسات کو دیکھ کر فرمایا۔:

لو ادرک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل۔”  (بخاری شریف جلد ۱، ص ۱۲۰(

ترجمہ:  اگر رسول اللہ ﷺ کو ان عورتوں کے کرتوتوں کا پتہ چل جاتا تو انھیں مسجد میں جانے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔

اور وہ وقت دور فاروقی میں آہی گیا جب مطلقاً عورتوں کو مسجد سے روک دیا گیا مگر اس ممانعت سے جمعہ وجماعات میں خلل واقع نہ ہوا۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ وہاں اندیشہ فتنہ کی وجہ سے جنس خاص کو روکا گیا، مگر مسئلہ دائرہ میں جنس عام کو روکا جارہا ہے جس سے جماعت ہی نہیں جمعہ متاثر ہو رہا ہے۔

یہاں ایک اندیشہ یہ بھی ہےکہ ہر نمازی بلکہ وہ بھی جو پنج وقتہ نہیں مگر اس کا ذوق ایمان شوق جمعہ کے لیے بے چین ہے، وہ ان پانچ بلکہ امام وموذن اور مسجد کمیٹی سے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہو جائے بلکہ بعض جگہوں سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں تو یہ ممانعت ‘مفضی الی النزاع’ ہوئی اور شریعت طاہرہ کسی مفضی الی النزاع امر کی اجازت نہیں دیتی جو کتب فقہ وفتاوی میں مصرح ہے۔ چنانچہ دربارۂ صحت جمعہ، منجملہ شرائط، سلطان یا اس کا ماذون و مجاز ہونا بھی ہے۔ اس میں حکمت ومصلحت شرعیہ یہی ہے کہ کسی کو یہ اختیار ہی نہ رہے کہ دعواے امامت کرے یا یہ کہ فلاں امامت کرے فلاں نہ کرے، بنایہ شرؔح ہدایہ میں ہے لان الجمعۃ (تقام بجمع عظیم) ، من الناس وقد تقع المنازعۃ فی التقدم بان یقول واحد ان یصلی بالناس، ویقول آخر انا اصلی بھم (والتقدیم) بان تقول طائفۃ یصلی بالناس فلان، ویقول الآخرون ویصلی بھم فلان الاخر، فتقع الخصومۃ بینھم ( جلد سوم ص ۵(

قال۔  “جدید کورونا وائرس، بذات خود کوئی بیماری نہیں، بیماری کا سبب ہے۔” ( درخشاں  جلوے(

اقول۔  اپنے اصل فتوے میں فرماتے ہیں: 

“اس بیماری کی ابتدائی علامت، زکام، سوکھی کھانسی، بخار ہے۔

یہ کیسے “درخشان جلوے” ہیں جن میں خود اپنی ہی تضاد بیانی نظر نہیں آتی۔ موصوف کو یہ بھی تسلیم کہ ‘سبب’ بذات خود ‘موثر’ نہیں مگر سماجی دوری کا فاصلہ ع

               حکم حاکم مرگ مفاجات،

سے کم نہیں۔ ہرحال میں اس پر عمل در آمد ہو نا ہے کیونکہ   ؎

اگر شہ، روز را گوید شب ست ایں
بباید گفت اینک ماہ وپرویں

کورونا وائرس جدید، اسکا مسئلہ جدید اور معاملہ مسائل جدیدہ کے محقق کی عدالت کا ہے جو اپنے ناخن تدبیر سے اذن عام کی شکل ہی بدل دیں اور امت مسلمہ کو وہ فارمولہ دے دیں کہ ‘پرشاشنک فرمان’ پر بھی عمل ہو جائے اور جمعہ بھی درست قرار پائے۔ سچ ہے۔ ع

یک رعایت قاضی بہ از ہزار گواہ

غرض جمعہ وجماعات بندی پر، کتب فقہ واحادیث سے بے محل نقل جزئیات اور طب یونانی سے لیکر مختلف صحتی ادارے، گودی میڈیا اور اخباری بیانات کی روشنی میں اپنے موقف کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس سے اندازہ لگتا ہے کہ وہ ایک طرف اگر محقق مسائل جدیدہ ہیں تو دوسری طرف کسی عالمی میڈیکل کالج سے پی ۔ ایچ۔ ڈی۔ بھی۔ وہ صرف مرض مذکور کی علامات ہی نہیں بتاتے بلکہ اس کا آسان علاج بھی بتاتے ہیں اور وہ ہے، جماعت وجمعہ اور مساجد پر عائد کردہ فاصلہ اور دوری کا لحاظ۔

قال۔   “جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ ‘جدید کو رونا وائرس’ کسی بیماری کا نام نہیں۔ یہ تو جاندار جراثیم ہیں جو اللہ کی ایک نئی مخلوق ہے۔ ان کی وجہ سے جسم کے اندر ایک مہلک بیماری پیدا ہو تی ہے۔ یہ اگر کسی ذریعہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو تے ہیں تو اسے حدیث نبوی (لاعدوی) کے مخالف نہیں سمجھا جاتا”۔

اقول۔  دریافت طلب یہ امر ہے کہ ‘وائرس’ پہلے ہے یا مریض؟ یعنی وائرس لگنے سے مریض بنا یا مریض سے وائرس پیدا ہوا؟ اگر پہلے وائرس ہے تو جس طرح پہلے شخص کو وائرس لگا اسی طرح دوسرے کو بھی لگ سکتا ہے۔ اور اگر مریض پہلے ہے، وائرس بعد میں، تو پہلے کو کس سے لگا؟ یہی سوال حدیث پاک میں ہے کہ فمن اعدی الاول؟

قال۔  “حدیث پاک میں مرض کے تعدیہ کی نفی کی گئی ہے، وائرس اور جراثیم کے تعدیہ کی نفی نہیں کی گئی۔ منہاج شرح مسلم میں ہے۔

ان حدیث لا عدوی، المرادبہ نفی ماکانت الجاھلیۃ تزعمہ وتعتقدہ ان المرض والعاھۃ تعدی بطبعھا ،لا بفعل اللہ تعالی‘‘۔

اقول۔  امام نووؔی شافعی قدس سرہٗ السامی نے اسی مقام پر حدیث نفی لا عدوی اور حدیث لا یور دالممرض علی مصححٍ، دونوں حدیثوں کے مابین اختلاف کا ذکر فرماتے ہوئے ایک جماعت کی توجیہ نقل کی ہے۔ یہ ان کا اپنا فیصلہ نہیں، ومانصہ۔

قال جمہور العلماء یجب الجمع بین ھذین الحدیثین وھما صحیحان، قالوا وطریق الجمع ان حدیث ،لا عدوی الخ۔۔۔۔ واما حدیث لا یورد الممرض علی مصحح، فارشد فیہ الی المجانبۃ ما یحصل الضررعندہ فی العادۃ بفعل اللہ تعالیٰ وقدرہ۔

یعنی جمہورؔعلماء نے فرمایا، ان دونوں حدیثوں کو جمع کرنا ضروری ہے اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ جمہور فرماتے ہیں دونوں کو جمع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حدیث لا عدوی  سے اس چیز کی نفی مراد ہے جس پراہل جاہلیت قائم تھے۔ چنانچہ وہ گمان اور اعتقاد رکھتےتھے کہ مرض اور آفت اپنی طبعی حالت سے تجاوز کرتے ہیں نہ کہ اللہ تعالیٰ کے فعل سے۔ رہی وہ حدیث کہ مریض تندرست کے پاس نہ جائے، اس میں اس چیز سے بچنے کی رہنمائی فرمائی ہے کہ جس سے بطور عادت اللہ تعالیٰ کے فعل اور اس کی قضا و قدر سے ضرر حاصل ہوتا ہے۔ امام نووؔی فرماتے ہیں۔

فھذا الذی ذکرنا من تصحیح الحدیثین والجمع بینھما ھو الصواب الذی علیہ جمہور العلماء ویتعین المصیر البہ۔ ( مسلم شریف جلدثانی، ص ۲۳۰(

یہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے، یعنی دو حدیثوں کی تصحیح اور ان دونوں کو جمع کرنا۔ یہی وہ راہ صواب ہے جس پر علماء جمہور قائم ہیں اور اس کی طرف رجوع کرنا طے ہے۔ فتح الباری جلد دہم ، ص ۲۲۶ میں ہے۔ وقد سلکہ فریقان، احدھما سلک ترجیح الاخبار الدالۃ علی نفی العدوی و تزئیف الاخبار الدالۃ علی عکس ذلک۔۔۔۔ الخ

اس میں دو فریق ہیں۔ ایک نے نفی عدوی کی احادیث کو ترجیح دی اور دوسرے نے اس کے عکس کو۔ اسی میں ہے جمع بین الحدیثین میں دیگر مسالک بھی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ ‘لاعدوی’ مطلق ہے اور فرار من المجذوم، کا حکم مجذوم کی دلجوئی کیلئے ہے۔

یہ تفصیلی بحث بخاؔری شریف جلد ثانی ۸۵۰ میں باب الجذام، کی حدیث ‘لاعدوی’ کے حاشیہ میں بھی موجود ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ العزیز فرماتے ہیں۔

“اور بعض ائمہ کے نزدیک تو حدیث ‘فرار من المجذوم’ منسوخ ہے لیکن امامؔ نووی نے اس کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ ہمیں کوئی حق نہیں کہ ان کے خلاف جائیں مگر یہ بھی ثابت کہ احادیث قسم اول اس درجۂ صحت پر نہیں، جس پر احادیث نفی ہیں۔ ان میں اکثر ضعیف اور بعض غایت درجہ حسن ہیں پھر صحیح بخاری کی اسی حدیث میں ابطال عدوی موجود، کہ مجذوم سے بھاگو اور بیماری اُڑ کر نہیں لگتی۔ تو یہ حدیث خود واضح فرمارہی ہے کہ بھاگنے کا حکم اس اندیشہ و وسوسہ کی بنا پر نہیں۔ ولہٰذا نزھۃ النظر للحافظ ابن حجر کے حوالہ سے شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

الاولی فی الجمع ان یقال ان نفیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  للعدوی باق علی عمومہ” (ماثبت بالسنہ ، ص ۵۰(

ترجمہ: دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ حضور ﷺ کا تعدیہ مرض کی نفی کرنا اپنے عموم پر باقی ہے۔

قال۔ لا ئے نفی جنس، کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جنس کے تحت جتنے افراد آتے ہیں سب کی نفی کردی گئی مگر جو چیزیں جنس کے دائرے سے باہر ہیں ان کی نفی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔ لاؔعدوی، میں جنس مرض کی نفی کی گئی ہے اور وائرس یا جراثیم، جنس مرض سے نہیں، جنس حیوان سے ہیں۔”

اقول۔  لائے نفی جنس، میں لفظ ‘جنس’ سے پہلے اس کا مضاف ‘لفظ’ صفۃ، محذوف ہے یعنی وہ ’لا‘جو صفت جنس کی نفی کرتا ہے۔ حاشیۃؔ العصام علی الجامی، میں ہے۔ ای لنفی صفۃ الجنس، اشار الی بیان معنی نفی صفۃ الجنس من انہ لیس بمعنی نفی وجود الصفۃ،بل  لنفی حکمہ۔ یعنی شارح نے صفت جنس کی نفی سے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ نفی صفت جنس سے وجود صفت کی نفی مراد نہیں بلکہ اس کے حکم کی نفی مراد ہے۔

اب حدیث ‘لاؔعدوی’ کو دیکھئے، اس میں لا، عدوی، پر داخل ہے اور گزر چکا کہ جمہور علما نےنفی کو اس کے عموم پر باقی مانا ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں۔

ان لم یدل نفی الجنس والنکرۃ الداخلۃ فی حیز النفی علی عموم النفی فماذا یدل، بل لادلالۃ علی تخصیص النفی بکونہا بالطبع۔ اگر نفی جنس اورنکرہ جو محل نفی میں داخل ہے عموم نفی پر دلالت نہ کریں تو پھر عموم نفی پر کونسی چیز دلالت کرے گی؟ بلکہ عدویٰ طبعی کی نفی کی تخصیص پرکوئی دلالت نہیں۔ فالحمد للہ علی احسانہ وکرمہ۔

ثم اقول۔ نفی صفت جنس (عدوی)  سے وجود صفت کی نفی مراد نہیں بلکہ اس کے حکم کی نفی مراد ہے اور حکم ہے بیماری کا نہ لگنا خواہ بیماری خود اڑکر لگے یا اس کے جراثیم کے تعدیہؔ سے لگے۔ تو یہ توجیہ کہ مرض خود اڑکر نہیں لگتا اس کے جراثیم اڑ کر لگتے ہیں اور اس سے بیماری پھیلتی ہے، دونوں باطل، کہ تعدیہ جراثیم سے بھی مرض کا لاحق ہونا موقوف ہے مشیت ایزدی پر اور وہی موثر حقیقی ہے اور مرض کا لاحق ہونا بغیر تعدیۂ جراثیم بھی ثابت، جیسا کہ پہلے مریض میں تو بات وہی کہ فمن اؔعدی الاول؟ اور اس کے قائل، مدعی تعدیہ بھی ہیں کہ:

جنس کے تحت جتنے افراد آتے ہیں سب کی نفی کردی گئی۔”

جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ تعدیہ کی جتنی صورتیں ہیں خود مرض کا اڑ کر لگنا یا جراثیم مرض کا اڑ کر لگنا، سب کی نفی کردی گئی۔

رہی شق ثانی کہ:

لا عدوی” میں جنس مرض کی نفی کی گئی ہے اور وائرس جنس مرض سے نہیں۔”

فاقول۔  یہ کھلا فریب اور اپنے مسلمہ سے گریز ہے کہ لائے نفی داخل ہے عدویؔ پر اور مراد لیں، جنس مرض کی نفی، تویہ توجیہ القول بمالا یرضیٰ بہ القائل ہوگا اور اب مطلب یہ ہوگا ،لا مرض، کسی قسم کا مرض ثابت نہیں، وہذا خلف۔

خلاصۂ کلام یہ کہ مرض کبھی بلا سبب ہو تا ہے اور کبھی بواسطۂ سبب، بہر دو صورت موثر حقیقی، اللہ پاک ہی ہے اولاد آدم کی پیدائش کے لیے حضرت آدم وحوا کوسبب بنایا اور خود حضرت آدم کو بغیر ماں، باپ کے پیدا فرمادیا، بہیترے جوڑے (میاں بیوی) ہیں جو اولاد سے محروم ہیں، بہیترے وہ ہیں کہ لاکھ علاج وجتن کے باوجود بے اولاد رہے اوربہیترے وہ ہیں کہ معمولی دوا و دعاء سے صاحب اولاد ہو گئے۔ یونہی کبھی کسی کی موت کا کچھ سبب ہو تا ہے اور کبھی بلا سببِ ظاہر موت کی نیند سوجاتا ہے۔ تو ماننا پڑے گا کہ لن یصیبنا الاماکتب اللہ لنا، تو تقاضا ئے عقل یہی ہے کہ صرف اسباب پر نظر نہ رکھے بلکہ اس سے کہیں زیادہ مسبب الاسباب کی طرف متوجہ ہو۔

جمعہؔ وجماعات اور دیگر عبادات ومناجات، مسبب الاسباب کو راضی کرنے کے کلیدی اسباب ہیں۔ ان کے ساتھ ہر وہ پابندی جو مراسم وشعائر دینی کی روح کو ختم نہ کرے اس کی بھی پابندی سے شرع حکیم نے منع نہیں فرمایا۔

چوتھی دلیل میں تجربات، اخباری ومیڈیائی بیانات کا سہارا لیا گیا ہے اور خوف وفتنہ، عذر وایذا کی آڑ میں اپنے فتوے کو عین حق وصواب بلکہ خیر خواہیٔ اسلام و مسلمان قراردینے کی کوشش کی گئی ہے۔

قال۔  “مساجد آبادرہیں گی، شعائر قائم رہیں گے۔”

حیدر آباد کے کسی معتقد نے موصوف کی حمایت میں سوشل میڈیا، پر زیر نظر مضمون ڈالا تھا حسب موقع بقدر ضرورت اس کی کچھ سطریں نقل کی جاتی ہیں۔

ہمارے نزدیک حضور محدث کبیرؔ اور حضور سراج الفقہا، دونوں کا فتوی حق وصحیح ہے۔

مگر محدث کبیر کے فتوے پر عمل کرنے کی صورت میں موجودہ لاک ڈاؤن کی حالت میں مسجد میں نہ جمعہ کی نماز ہو سکتی ہے اور نہ جماعت سے ظہر کی نماز۔

نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ جمعہ کے روز مسجد ویران ہوگی اور شعار اسلام معطل ہوگا۔

اور حضور سراج الفقہاء کے فتوے پر عمل کرنے کی صورت میں مسجدیں ویران نہیں ہورہی ہیں۔

حضور سراج الفقہاء کے فتوے نےجمعہ کے معطل ہو نے کی قباحت سے لوگوں کو بچا لیا اور مسجدوں کو آباد کردیا۔”

دونوں تحریروں کی زبان میں یگانگت سے توایسا لگتا ہے کہ مضمون نگار صاحب فتوی ہی ہیں۔ بہر حال جو بھی ہوں۔ ان سےگزارش ہے کہ جب محدث کبیر کی تصدیق والے فتوے سے مسجدیں ویران ہو رہی ہیں تو وہ حق وصحیح کیوں؟ کیایہ تضاد نہیں کہ ویران کرنے والا بھی حق وصحیح اور آباد کرنے والا بھی۔ حق تو کوئی ایک ہی ہوگا اور وہ وہی ہوگا جو مسجد آباد کر نے والا ہو۔ اس پر کچھ بحثیں تو گزر چکیں کہ وہ نام کا اذن عام، اذن خاص بھی نہ رہا اور انتفائے شرط اذن عام سے جمعہ ادا نہ ہوا۔ اور نہ جماعت ظہر ہوئی اس طرح شعاردین معطل رہا۔

رب فرماتا ہے ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا ۔(البقرہ سورہ ۲، آیت ۱۱۴)  ترجمہ: اور اس سےبڑھ کرظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نام خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔

شان نزول میں کئی اقوال ہیں منجملہ ایک یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حضور سید عالم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور جنگ حدؔیبیہ کے وقت اس میں نماز وحج سے منع کیا تھا۔

آیت کریمہ میں ذکرؔ، سے مراد نماز، خطبہ، تسبیح اور وعظ ہے اور اس سے روکنا ہر جگہ برا ہے خاص کر مسجدوں میں جو اسی کام کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ لہٰذا جو شخص مسجد کو ذکرو دعا سے معطل کردے وہ مسجد، کا ویران کرنے والا اور بہت ظالم ہے۔ (خزائن(

امام راؔزی فرماتے ہیں۔

مساجد کی ویرانی میں کوشش کرنے والامشرک سے بھی بدتر ہے کہ شرک کو قرآن نے عظیم کہا اور ویرانیٔ مساجد میں سعی کرنے والوں کو ۔ ’اظلمؔ‘ بڑا ظالم فرمایا، فان ظاہر ھا یقتضی ان یکون الساعی فی تخریب المساجد اسوأ حالامن المشرک ، لان قولہ تعالیٰ و من اظلم، یتناول المشرک ،لانہ تعالیٰ ،قال۔  ان الشرک لظلم عظیم( تفسیر رازی جلد ثانی ،ص ۱۲(

اسی آیت کے تحت ملا احمدؔ جیون فرماتے ہیں۔

المقصود من ذکر الایۃ انھا تدل علی ان ھدم المساجد وتخریبہا ممنوع ، وکذالمنع عن الصلوٰۃ والعبادۃ وان کان مملوکا للمانع ، ( تفسیر ات احمدیہ، ص ۲۷(

یعنی آیت کریمہ کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ’مساجد‘ کو منہدم کرنا اور ان کی ویرانی ممنوع وحرام ہے۔ یونہی ان میں نماز ادا کرنے اور عبادت بجالانے سے کسی کو روکنا ممنوع ہے اگرچہ مسجد منع کرنے والے کی ملکیت میں ہو۔

عبارات مذکورہ سے یہ ثابت ہو چکا کہ ذکر و دعاء جمعہ وجماعت اور نمازسے روکنا، حکم ویرانی میں داخل ہے۔ اب اس روکنے کا الزام شرعاً کس کے لیے ثابت ہے اور یہ روکنا یا روکنے کی تائید وحمایت کرنا عذرشرعی مانا جائے گا یا نہیں؟

کسی بھی مرض یا اس کے وائرس کے متعدی ہو نے نہ ہونے کی بحث بہ تمام وکمال گزر چکی۔ یہاں بقدر ضرورت مرجع الفقہاء حضور مفتی اعظم ھند قدس سرہٗ کے فتاوے سے بطور تائید کچھ عبارات ملاحظہ ہوں۔

ازالۂ منکر، بقدر قدرت واستطاعت فرض، اس کے خلاف پر امن رہتے ہوئے علماء کرام وغیرہم سائرانام، خواص وعوام، سب پر صدائے احتجاج بلند کرنا شرعاً عقلاً ہر طرح لازم کہ یہ عمل ظلم ہے اور ظلم پر مظلوموں کی آواز بلند ہو نا فطری بات ہے جو ہرگز کسی ذی انصاف کے قانون کی زد میں نہیں آسکتی اور اس پر دفعہ ۱۴۴ ؍نافذ کرنا کسی عاقل کے نزدیک انصاف نہیں ہوسکتا” ( ملخصاً از فتاویٰ مصطفویہ ج۱، ص ۲۱۰(

اور فرماتے ہیں:

“بعض لوگ خوشامد میں بادشاہوں حاکموں کے سامنے ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ دن کو رات کہیں تو یہ بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانا ضروری خیال کرتے ہیں۔  جو وہ کریں ان کی خوشامد میں یہ بھی ایسا ہی کر گزرتے ہیں، جنھیں فرمایا گیا ‘الناس علی دین ملوکھم’ مگر یہ آج تک غالباً نہ ہوا تھا کہ محض ان کے قول وفعل کو دلیل جواز ٹھہرا یا گیا ہو اور شریعت ان کے ہاتھ میں یا ان کے قول وفعل کے تابع سمجھی گئی ہو۔”

اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ برسوں پہلے حضور مفتیٔ اعظم نے جو فقاہت کے درخشاں جلوے بکھیرے ہیں انھیں بار بار پڑھا جائے اور آج کے تناظر میں پوری امت مسلمہ کے لیے جو مشعل ہدایت عطا فرمایا، کیا اس کے ہو تے ہوئے ہمیں کسی جدید تحقیق کی ضرورت ہے؟ یا اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے؟

مہاراشٹرمیں کورونا زدہ ایک مسلمان کی لاش جلائی گئی اورپورا ملک خاموش رہا۔ مگر وہیں سے ایک کانگریسی جیالے نسیم عارف نے صدائے حق بلند کی اور اس کی آواز سنی گئی۔ کاش کہ سیاسی مذہبی سارے قائدین نے، جماعت و نماز اور جمعہ سے متعلق شرعی احکام سے ارباب اقتدار کو مطلع و مطمئن کیا ہوتا تو بعض صورتیں مستثنی ہو سکتی تھیں مگر ایسا نہ ہوا۔ اگر کوشش بسیار کے باوجود اس حکم امتناعی کا نفاذ ہرجگہ اور ہر صورت میں واجب العمل ہی قرار پاتا توہم معذور ہوتے، یہی تو حضرت محدث کبیر نے فرمایا تھا کہ

مطالبۂ شدید کے بعد بھی اجازت نہ ملے تو معذور ہیں”۔

لاک ڈاؤن، منظر ، پس منظر:۔

پہلے حکمران جماعت کے نیتاؤں اور کانگریسی ودھایکوں کو بذریعہ بس بنگلور لے جانا، ہوٹلوں میں ٹھہرانا، کچھ نیتاؤں کا عام دنوں کی طرح بارات لے جانا، شادی، سراد کا بھوج کرنا، ایم پی میں کانگریس کو بے دخل کرکے اپنا اقتدار جمانا۔ پھرجتنا کرفیواور لاک ڈائون اور اس کے پہلے ہی دن صبح سویرے یوپی کے وزیر اعلیٰ کا دورۂ اجودھیا۔ بلاماسک اور سماجی دوری کا لحاظ کئے بغیر اپنی ٹیم اور پوجاریوں کے ساتھ دھارمک رسوم کی ادائیگی۔ رام مندر کا شیلا نیاس۔ برتھ ڈے، رتھ یاترا، کیدار ناتھ یا ترا اور مختلف مندروں میں بھاری بھیڑ بھاڑ کے ساتھ رسم پوجا پاٹ ادا کرنا۔ اقتدار اعلیٰ کا تھالی، تالی، اور دیا دیپ جلاکر جشن کا ماحول  بنانا۔ علاوہ ازین اور بھی لاک ڈائون کی دھجیاں اڑانے کی بہتیری مثالیں ہیں اور طرفہ یہ کہ کسی پر کوئی ایکشن ندارد۔ ایک طرف تو یہ۔

اور دوسری طرف مسجدوں میں پانچ سے لیکر سات آٹھ بلکہ بعض جگہوں پر پانچ افراد تھے جب بھی سلام پھیرتے ہی بچہ ہو کہ بوڑھا، دنا دن لاٹھیاں برسانا۔ دلی کے فساد زدہ علاقوں میں اقلیتی طبقہ کے جوانوں، بچوں، بچیوں کی جانچ کے نام پر گرفتاریاں۔ امداد کے بہانے، ووٹر آئی ڈی جمع کرانا۔ بعض مقامات پر اذان بندی کا نوٹس مسجد کے دروازہ پر چسپاں کرنا، کہیں پولس کا بذات خود امام و موذن کو اذان سے منع کرنا۔ اقلیتی طبقہ کے تھوکنے اور پھل و سبزی بیچنے پر وبال کرنا۔ اکثریتی طبقہ کے محلہ سے اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو گزرنے سے روکنا، جانچ کے بہانے بھلے چنگے کوجبراً ہاسپیٹل لے جانا اور ان کے اہل خانہ کو اس سے بے خبر رکھنا، امداد پانے کے لیے اپنے دھرم کا نعرہ لگوانا، وغیرہ وغیرہ۔

یہ ہو ئے لاک ڈائون کے دو چہرے۔

اب کچھ وہ مضمرات بھی ملاحظہ ہوں جو درخشاں جلوئوں میں نظر نہیں آتے۔

رمضان کے مہینے میں جوتے چپل اور کپڑے وغیرہ کی دکانیں کھولنے کی چھوٹ، یوپی اور دلی میں شراب کی دکان کھولنے کی اجازت۔ یعنی مارکیٹ کھلی، مساجد بند۔ ان شواہد کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ یہ محض وائرس کو روکنےاور ہمارے فائدے کے لیے ہیں، قابل افسوس ہے۔ جی ہاں طلاق ثلثہ کا قانون ہو کہ کشمیر سے ۳۷۰ کا خاتمہ، این۔ آر۔ سی ہو یا سی۔ اے۔ اے۔ اور این۔ پی۔ آر۔ سارے، قانون اقلیتی طبقہ کو فائدہ پہونچانے کے نام پر ہی بنتے ہیں۔ داراؔلافتاء اور دارُالقضا کی تالا بندی بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس طرح “ایک دیش ایک قانون” کا فارمولہ بھی تیار ہے۔ دعاء ہے کہ رب قدیر ہرمرض، ہر فتنہ اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین!  اس کے علاوہ بھی بہت سے مضمرات ہیں جو سراج فقاہت کے درخشندہ جلوؤں میں نظر نہیں آرہے ہیں۔

تجرباتؔ کثیرہ، اخبار متواترہؔ، واقعات عامہ اوران پر (او، آئی، سی) نیز (یو۔ این۔ اے) جیسے عالمی اداروں کے احتجاجات بھی پردہ خفا میں ہیں۔

جائے تعجب ہے کہ ایک ایسا جامع الفنون شخص جو مسائل جدیدہ کا محققؔ، فقہائے کرام کا سراج منیرؔ اوراپنے دور کامفتی اعظم کہلائے، ازہر ہند کا رئیس الاساتذہ ہو، جس کے سامنے انٹرنیٹ، ٹی وی چینل، سوشل میڈیا، عالمی منظر نامے غرض سارے ذرائع ابلاغ موجود ہوں اور اس کی نگاہوں میں پوری دنیا رائی کے دانے کی طرح ہو، وہ حالات زمانہ اور ملکی امروز و فردا سے یا تو بےخبر ہے یا چشم پوشی کا شکار ہے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل، کس کے لیے آیا؟

پانچ افراد کی اجازت پر اُٹھے سوال کو سرکاری حکام پر ٹالے اور اتنے افراد کے ذریعہ جمعہ وجماعت قائم کرنے کی اجازت کو غنیمت جانے۔ مسلمانوں کو ہر بات میں رد وانکار کا خوگر بتا کر اس سے باز رہنے کی تلقین کرے اور کہے کہ۔۔۔ع

باغباں بھی خوش رہے، راضی رہے صیاد بھی

جو مانتا ہو کہ دنیا کے پاس اس کا کوئی معین اور شافی علاج نہیں ہے۔ سماجی دوری کو ایک احتیاطی تدبیر مانے، پھر بھی وہ ان دنیوی تدابیر کو دینی تدابیر پر ترجیح دیکر نظام شریعت میں پھیر بدل کا داعی کیوں ہے؟

یہ خاکسار اپنے فتوے میں بتا چکا کہ اس مرض کی تشخیص ابھی نامکمل ہے تو دوا کی تجویز بھی تجربات کے مرحلے میں ہے۔ لہٰذا جائز حد تک سماجی فاصلہ کا لحاظ بھی ہو اور نماز وجماعت کے ذریعہ مسبب الاسباب کو راضی کرنے کا اہتمام بھی، تو دوا و دعاء دونوں اسباب رحمت الٰہی کا بہانہ بن سکتے ہیں اور مساجد کی ویرانی کے ارتکاب سے بھی بچ سکتے ہیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

اذا انزلت عاھۃ من السماء صرفت عن عمار المساجد، جب آسمان سے آفت نازل ہوتی ہے تو مساجد آباد کرنے والوں سے اُسے پھیر دیا جاتاہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ:

مسجدوں کے لیے کچھ اوتاد مقرر ہیں اور ملائکہ ان کے جلیس وہم نشین ہوتے ہیں۔ جب یہ غائب رہتے ہیں تو فرشتے ان کی خیریت معلوم کرتے ہیں اور بیمار پڑتے ہیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور بوقت حاجت ان کی مدد فرماتے ہیں۔ (تفسیر رازی، ج۲،ص ۳(

ایک طرف یہ ارشاداتِ طبیب لا دوا ہیں۔ دوسری طرف ایک نئی بیماری یا عذاب و وباء ہے اور کسی طبیب حاذق مسلم غیر فاسق سے سماجی دوری کا پچھلا اور آخری علاج ہونا ثابت نہیں تو ایک پہلو پر اڑنا اور دوسرے کو رگڑ نا یہ کہاں کا انصاف ہے؟

ہاں دیگر علاج و تدابیر کے ساتھ فرائض و واجبات کی ادائیگی اور طب نبوی کے نسخہ جات بھی عمل میں لائے جائیں تو ان کی چھوٹ ہونی چاہیے؟ حسب موقع ایک نسخہ اور ایک دعا تحریر کی جاتی ہے۔

سیاہ دانہ جسے کلونجی کہا جاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ موت کے سوا تمام بیماریوں کا علاج ہے۔ اس کے کچھ مثلاً سات دانے چبا لیے جائیں اور آب زمزم یا وضو کا بچا پانی قبلہ رو کھڑے ہو کر بسم اللہ شریف کے ساتھ پیا جائے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھی جائے۔

)۱   (اَللّٰھُمَّ اشْفِنِی بِشِفَائِکَ وَدَوَانِیْ بِدَوَائِکَ وَاعْصِمُنِی مِنَ الْوَھْلِ وَالْاَمْرَ اضِ وَ الْاَوْجَاعِ ۔ اللہ شافی، اللہ کافی،  اللہ معافی۔

(۲)کسی کسی مصیبت زدہ یا مریض کو دیکھ کر یہ دعاء پڑھیں، انشاء اللہ المولیٰ القدیر وہ مصیبت یا وہ بیماری پڑھنے والے کو نہیں لگے گی، مریض یا مصیبت زدہ سامنے نہ ہوتو ‘ممن ابتلاہ’ پڑھیں اَلْحَمدُ لِّٰلِہ الْذِیْ عاَفاَنِی مِمَّنْ ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلیٰ کَثِیرٍمِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلاً ساتھ ہی مریض کے لیے یہ دعا پڑھیں۔ اَسْئَالُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمْ اَنْ یَشْفِیَہٗ شِفَاءاً تَامًّا۔

بہر حال دونوں فریق کے نزدیک یہ مسلم کہ مرض بھی ہے اور وباء وعذاب بھی بلکہ مرض کم عذاب زیادہ اور عذاب کا علاج دوا نہیں اپنے گناہوں سے سچی توبہ اور اپنے رب سے معافی اور اس کو راضی کرنا ہے اور موت کا وقت آچکا تو دوا ودعا سے اسے ٹالا نہیں جاسکتا ۔  ؎

چوں قضا آید طبیب ابلہ شود        واں دوا در نفع خود گمرہ شود

دعاء ہے مولا تعالیٰ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہر مرض ہر بلا ووبا وعذاب سے محفوظ رکھے، آمین، بجاہ طہ ویٰسینؔ؎

    پندہا دادیم حاصل شد فروغ         ماعلینایا اخی الاالبلاغ

             اس تحریر کا نام “الصمصام علی مغیر حکم الاذن العام” رکھتا ہوں۔

کتبہ:  محمد مطیع الرحمٰن غفرلہ رضوؔی       

خادم رضوی دارُالافتاء جامعۃ الخضرا

مرون، مظفر پور ۶ رمضان المبارک ۱۴۴۱ھ ۳۰/ اپریل ۲۰۲۰ء جمعرات  ۱۲ 


Bahar e Shariat Mukammal Ghar Baithe Discount Hadiye Me Hasil Karne Ke Liye Niche Click Karen.

Don`t copy text!