عُرسِ مخدوم سمناں (27 محرم 1448 ھ) کے موقع پر، خانقاہِ اشرفیہ حسنیہ (سرکارِ کلاں) کے اسٹیج سے، ڈاکٹر سید شمیم منعمی نے، حضرت سید محمود اشرف اشرفی جیلانی کی موجودگی میں بلا روک ٹوک گمراہ کن تقریر کی اور تفسیر بالرائے کا ارتکاب کرتے ہوئے خلفائے راشدین کی عظمت و وقار کو شدت کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اُنھیں کی آواز میں سنیے!

ڈاکٹر شمیم خلفائے راشدین کی عظمت پر حملہ کرتے رہے لیکن اسٹیج پر کوئی مردِ مجاہد ایسا نہ تھا جو انھیں ہاتھ پکڑ کر روکتا یا مائک بند کر دیتا! نہیں ،بلکہ ان کی زہریلی تقریر پر واہ واہ کی آواز بلند ہوتی رہی اور نعرے بھی لگائے گئے!

اس تعلق سے مزید تفصیل ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ پیش کی جائے گی۔ اس کیلئے آپ ہمارے واٹس ایپ گروپ میں ضرور شامل ہوجائیں:
کہاں ہیں نام نہاد غازی ملت؟ (مولوی ہاشمی کچھوچھوی)
جنھوں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے بریلی شریف کی علمی مرکزیت کا انکار کیا تھا۔ اُنھیں کی آواز میں سنیے!
غازی ملت صاحب! ذرا، انصاف کے ساتھ بتائیے کہ جاہل کہاں ہیں اور بدعقیدگی کہاں سے پھیل رہی ہے!
یاد کیجیے آپ نے چیخ چیخ کرکہا تھاکہ:
“مرکزِ علمی تین پُشت، چار پشت کے بعد ختم ہوجاتا ہے، مرکز ہی ختم ہوجاتا ہے۔ مزید کہا تھاکہ اجمیر شریف میں ایک بھی عالم نہیں ہوگا مگر وہ مرکزِ عقیدت ہے۔ کلیر شریف میں ایک بھی عالم نہیں ہوگا مگر وہ مرکزِ عقیدت ہے۔ تو اب جتنے بھی اولیاء اللہ کی درگاہیں ہیں، وہ مرکز عقیدت ہی ہیں۔ یہ اکیلا مخدوم اشرف ہے جو مرکز عقیدت بھی ہے اور مرکز علم بھی ہے۔
یہ بھی کہا تھا کہ مرکز ِعلمی بریلی شریف بنا۔ علامہ نقی علی خاں،
امام احمد رضا خاں، مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ،
اب کون۔۔۔؟
تین چار سو سال میں مرکز علم ختم ہوجاتا ہے۔
لیکن مخدوم اشرف تمہاری روحانیت کو سلام!
700 برس گزر گیا، کسی دور میں جاہل نہیں، عالم ہی ملے۔”
لیکن اب آپ کی زبان خاموش کیوں ہے؟؟؟
امین القادری مولوی ہاشمی سے گلے ملتے ہوئے

امین القادری کا رشتۂ نسب نبی ﷺ سے نہیں !
بلکہ رشتۂ محبت دشمنانِ نبی سے ہے۔
امین القادری حقیقی سید نہیں ہے بلکہ نسب بدل کر سید ہوا ہے۔ثبوت دیکھنے کیلئے کِلک کریں:
امین القادری ایک منہاجی یعنی طاہرالپادری کی پیروی کرنے والے پر دل و جان سے فدا ہے، بٹن دبا کر تفصیل دیکھیے:
رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے امین القادری سے چند اہم سوالات کیے ہیں جن کے جواب وہ آج تک نہیں دے سکا ہے:
امین القادری کا اہم پیغام سننے کیلئے کِلک کیجیے:
سنی دعوت اسلامی کے تعلق سے جید علمائے اہلسنت کا حکم جاننے کیلئے کلک کیجیے:
مولوی ہاشمی نے جب مسلک اعلیٰ حضرت سے انکار کو جائز کہہ دیا تھا تو علمائے اہلسنت ممبئی نے برسر عام جلسے میں اس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔رضا اکیڈمی کے زیر اہتمام اور اکیڈمی کے روح رواں سعید نوری صاحب کی زیر نگرانی ہونے والے اس جلسہ میں شہزادہ حضور سیدالعلماء حضرت مولانا سید حسنین میاں نظمی مارہروی علیہ الرحمہ، مفتی اسلم بستوی، مولانا عبد المصطفےٰ ردولوی، مفتی نظام الدین مبارکپوری، مولانا خلیل الرحمان، مفتی محمد رفیق (دارالعلوم غریب نواز ممبرا) مولانا غلام محی الدین سبحانی، حافظ عبدالقادر رضوی اور مفتی اشرف رضا صاحب وغیرہ موجود تھے۔
مزیدتفصیل اور ثبوت دیکھنے کیلئے کِلک کیجیے:
اس تعلق سے مزید تفصیل ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ پیش کی جائے گی۔ اس کیلئے آپ ہمارے واٹس ایپ گروپ میں ضرور شامل ہوجائیں:
نیچے کِلک کرکے سنیے کہ توقیر رضا نے صاف اعلان کردیا کہ:
’’شیعہ، سنی، وہابی، اہلحدیث، یہ تمام میرے نزدیک مسلمان ہیں!‘‘ معاذاللہ
کیا آپ نے کِلکِ رضا کا تعاون کیا؟
اگر نہیں تو اِس طرف بھی کچھ توجہ کیجیے کیونکہ کسی بھی مشن کو جاری رکھنے کیلئے اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے!اس کے بغیر کام کرنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ہر منصوبے پر عمل نہیں ہوپاتا۔ نیچے بٹن پر کِلک کریں:-
