مسلک اعلیٰ حضرت

مسلک اعلیٰ حضرت سے منحرف ہونے والوں کے لئے ایک لمحۂ فکر

از: فقیر عبد الصمد قادری رضوی
قادری منزل، رفیع گنج ضلع اورنگ آباد (بہار)

  آج سے تقریباً ۲۵،۳۰ سال سے ہر طرف جماعت اہلسنت میں اختلاف و انتشار زور پکڑے ہوا ہے۔ دور حاضر میں اہلسنت جس کی تعبیر مسلک اعلیٰ حضرت سے کی گئی ہے اس سچے مسلک سے سادہ لوح خوش عقیدہ مسلمانوں کوبرگشتہ کرنے اور اس امتیازی نام کو مٹانے کے لئے فرقہائے باطلہ کے علاوہ سنی کہلانے والے نام نہاد محققین، ایڈیٹرس، آزاد خیال مولوی، مفتی، مجاوراورخاص کر مدنی صاحب وغیرہ صلح کلیت کو فروغ دینے کی خاطر وہابی کا ذبیحہ کھانے اور ان سے نکاح کرنے کے لیے ا یڑی چوٹی کے زور لگائے ہوئے ہیں اور یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ’’ جماعت وہابیہ میں پانچ ہی کافر   ہیں ،باقی جو ان کے پیرو ہیں وہ صرف گمراہ ہیں ان کے بارے میں کوئی کرید کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘ اور بار بار یاد دہانی کے باوجود بھی شخص مذکور کو غلط باتوں پر نظر ثانی کرنے اور جانب رجوع کوئی توجہ نہیں ۔
مسلمانو! بات در اصل یہ ہے کہ نادرست بات سے توبہ و رجوع کی توفیق بھی مقدر والے ہی کو نصیب ہوتی ہے۔ورنہ آنکھوں پر لوہے کے پردے اور کانوں میں سیسہ پگھلا دیا جاتا ہے۔انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سلب کرلی جاتی ہے۔توبہ و رجوع توروح کا غسل ہے۔جتنی بار کی جائے روح میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔امام غزالی احیاء العلوم میں تحریر فرماتے ہیں توبہ کے تین رکن ہیں (۱) اپنے کئے پر شرمندہ ہونا (۲) اللہ تبارک و تعالیٰ سے معافی چاہنا (۳) اور عہد کرنا کہ آئندہ ایسا گناہ نہیں کروں گا۔ اور چند سال قبل بمبئی کے مولوی ظہیر الدین نے’’سنی دعوت اسلامی‘‘ کے اجتماع بمبئی میں کہا تھا کہ یہ پانچواں مسلک کہاں سے آگیا ؟ مسلک اعلیٰ حضرت کا نعرہ نہ لگایا جائے، قبر میں مسلک کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ ایسے سر پھروں کے جواب میں چند مشاہیر شخصیات کے ارشادات ملاحظہ کریں۔
(۱) ’’میرا مسلک شریعت و طریقت میں وہی ہے جو اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ہے، میرے مسلک پر چلنے کے لئے اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے ۔
(از مکتوبہ ۲۹؍ذی الحجہ ۱۳۳۹؁ھ حضرت شاہ اشرفی میاں کچھوچھہ شریف)
(۲) ’’دین اسلام و مذہب اہلسنت کا سچا خلاصہ ’’مسلک اعلیٰ حضرت ‘‘ ہے یہی وہ مجمع البحار ہے، جس پر آج حنفیت، شافعیت، مالکیت و حنبلیت اور قادریت، چشتیت، شہروردیت، اشرفیت ،مجددیت اور برکاتیت وغیرہم سب سمندر وںکا سنگم ہے۔ ‘‘
(شیر بیشۂ اہلسنت پیلی پھیت)
(۳) ’’الحمدللہ میں مسلک اہل سنت پر زندہ رہا اورمسلک اہلسنت وہی ہے جو اعلیٰ حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہے اور الحمد للہ اسی (مسلک اعلیٰ حضرت) پر میری عمر گزری اور الحمدللہ آخری وقت اسی مسلک پر مدینہ طیبہ میں خاتمہ بالخیرہو رہا ہے اور مسلک اہل سنت وہی ہے جو مسلک اعلیٰ حضرت ہے۔‘‘
(مبلغ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم میرٹھی علیہ الرحمہ)
(۴) ’’میں تمام مسلمانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بریلی شریف کے تاجدار اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدددین و ملت مفتی محمد احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا جو مسلک ہے وہی میرا مسلک ہے۔ مسلمانوں کواسے مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہئے۔‘‘
(حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی)
(۵) جو میرا مرید مسلک اعلیٰ حضرت سے ذرا سا بھی ہٹ جائے تو میں اس کی بیعت سے بیزار ہوں اور میرا کوئی ذمہ نہیں ہے۔ مزید یہ بھی فرمایا یہ میری زندگی میں نصیحت ہے اور میرے وصال کے بعد میری وصیت ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا مسلک اعلیٰحضرت در حقیقت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہی مسلک صاحب البرکات ہے، مسلک غوث اعظم ہے، مسلک امام اعظم ہے، مسلک صدیق اکبر ہے۔ ‘‘
(اہلسنت کی آواز ۲۸؍جمادی الاولیٰ ۱۴۱۶؁ھ حضور احسن العلماء مارہرہ شریف)
(۶) ’’اس زمانے میں اہل سنت کو تمام فرقہائے باطلہ سے ممتاز کرنے کے لئے سوائے مسلک اعلیٰ حضرت کے کوئی لفظ موزوں ہوتا ہی نہیں۔ کچھ معاندین اس کے بالمقابل مسلک امام اعظم بولتے ہیں۔ لیکن یہ لفظ امتیاز کے لئے کافی نہیں۔ غیر مقلد کو چھوڑ کر سارے وہابی اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں۔مثلاً دیوبندی، مودودی، نیچری حتی کہ قادیانی اپنے کو مسلک امام اعظم پر گامزن بتاتے ہیں اور یہی حال اہل سنت کے لفظ کا بھی ہے کہ ان میں کے بہت سے لوگ اپنے آپ کو سنی بتاتے ہیں۔ اس تفصیل کی روشنی میں میں نے بہت غورکیا، سوائے مسلک اعلیٰ حضرت کے کوئی لفظ ایسا نہیں جو صحیح العقیدہ سنی مسلمانوں کو تمام بدمذہبوں سے ممتاز کردے۔
(ماہنامہ اشرفیہ اپریل ۱۹۹۹؁ھ از شارح بخاری مفتی شریف الحق صاحب علیہ الرحمہ)
(۷) سارے فرقہائے باطلہ کے مقابلے میں اپنی دینی جماعتی شناخت کے لئے ہمارے پاس بریلوی یا مسلک اعلیٰ حضرت کے لفظ سے زیادہ جامع کوئی دوسرا لفظ نہیں ہے۔
(رئیس القلم علامہ ارشد جمشید پور)
(۸) مسلک اعلیٰ حضرت واقعتاً مسلک اہلسنت و جماعت کا دوسرا نام ہے اور اس دور میں مذہب حق و اہل حق کی پہچان ہے۔اس پہچان کو جومٹانا چاہتا ہے وہ اسلام کی شناخت کو مٹانا چاہتا ہے، گویا کہ وہ اسلام اور غیر اسلام کو ایک کرنا چاہتا ہے۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے اپنے اشعار میں بھی یہی تعلیم دی ہے، فرماتے ہیں:
عیش کر لو یہاں منکرو ! چار دن
مر کے ترسو گے اس زندگی کے لئے
صلح کلی نبی کا نہیں سنیو !
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لئے
مسلک اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو
زندگی دی گئی ہے اسی کے لئے
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، مال و جاں ان پر فدا کر دیں

(۹) امام احمد رضا بریلوی کی ذات گرامی تو بڑی چیز ، ان کے شہر کی طرف منسوب کرنا اہل ایمان اور عاشق رسول ہونے کی دلیل بن گئی ہے۔ (مدنی میاں کچھوچھہ شریف)
(۱۰) مسلک اعلیٰ حضرت حقیقت میں سواد اعظم کے طریقۂ مرضیہ اور متوارثہ کا نام ہے جو عہد رسالت سے آج تک سواد اعظم کا مسلک ہے ۔
(مفتیٔ اعظم راجستھان جودھپوری)

پیارے ایمانی دینی بھائیو! امام اہلسنت کا صرف فتاویٰ حسام الحرمین عطا فرمانا، مسلمانان بر صغیر پر وہ احسان عظیم ہے جس سے کوئی بھی سنی مسلمان آپ کے بار کرم سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا میں نے بہ نیت خیر خواہی اپنے صرف چند اساطین اہلسنت کے ذریں اقوال اور نصیحتیں پیش کر دیں اسے بغور ملاحظہ فرمائیں اور عملی جامہ پہنائیں اور اس دور پر فتن اورپر آشوب میں گمراہ و بدمذہب کے جال میں پھنسنے سے خود بچیں اور اپنے عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو بچائیں اور تمام فرقہائے باطلہ بالخصوص دور حاضر کے صلح کلیوں سے تنکا توڑ جدا رہ کر دین حق یعنی مسلک اعلیٰ حضرت پر مضبوطی کے ساتھ جم جائیں ۔ مولیٰ تبارک و تعالیٰ خوش عقیدہ مسلمانوں کو ماضی قریب میں خلیل احمد بجنوری، ظفر ادیبی مبارکپوری اور انتخاب قدیری کی بد انجامی سے عبرت اور سبق حاصل کرنے کی فکر مرحمت فرمائے اور استقامت علی الحق کی توفیق بخشے۔ آمین
ایمان پا رہا ہے حلاوت کی نعمتیں
اور کفر تیرے نام سے لرزاں ہے آج بھی
کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیئے
علمائے حق کی عقل تو حیراں ہے آج بھی
سب ان سے جلنے والے کے گل ہو گئے چراغ
احمد رضاؔ کی شمع فروزاں ہے آج بھی
پروردگار! مفتیٔ اعظم کی خیر ہو
ان سے ہمارے درد کا درماں ہے آج بھی
مرزاؔ سر نیاز جھکاتا ہے اس لئے
علم و عمل پہ آپ کا احساں ہے آج بھی
مسلک احمد رضا سے منحرف جو بھی ہوا
مارا مارا پھرتا ہے پوچھتا کوئی نہیں

انتخاب قدیری مرادآبادی جب مسلک رضویت کا مخالف نہیں ہوا تھا اس وقت کے اس کے اشعار قارئین ملاحظہ کریں۔ مسلک اعلیٰ حضرت ہی ہے دین حق
اس کی حد سے جو باہر نکل جائے گا
کل بروز قیامت خدا کی قسم
دیکھنا وہ جہنم میں جل جائے گا
مان لے گا انھیں مومن با وفا
اور منافق کا دل ان سے جل جائے گا
انتخاب قدیری بروز جزا
تھام کر دامن شاہ احمد رضا
روبروئے جناب حبیب خدا
ان کادامن پکڑ کر مچل جائے گا

مشہور خطیب عبید اللہ خاں اعظمی جماعت اہلسنت سے الگ

از : عبد الصمد قادری رضوی،
قادری منزل ، رفیع گنج ضلع اورنگ آباد (بہار)

عبیداللہ نے ۱۰؍محرم الحرام ۱۴۴۴؁ھ مطابق ۹؍اگست ۲۰۲۲؁ء کو عرس علیمی کے موقع پر مصطفیٰ بازار ممبئی ہونے والے جلسے میں صحابیٔ رسول، کاتب وحی، فقیہ و مجتہد حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں طعن و تشنیع کیا ۔ اس سے قبل ماضی قریب ہی میں اسی خطیب نے ایران کے امبیسی کے جلسے میں مشہور شیعہ خمینی کو نائب پیغمبر کہا تھا۔ اسی شخص نے ۱۹۹۹ ء یا ۲۰۰۰؁ء میں دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی کے اسٹیج سے مفتیان اہلسنت کے شرعی فتوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایسے فتوؤں کو جوتی کی ٹھوکروں سے اڑاتے ہیں ۔ اس وقت دارالعلوم علیمیہ کے ذمہ داروں کے علاوہ سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارکپور بھی موجود تھے۔ اسی نے بمبئی کے ایک جلسے میں مولوی ظہیر الدین جس نے کہا تھا قبر میں مسلک نہیں پوچھا جائے گا‘ اس کی خوب تعریف و توصیف بیان کیا اور تاج الشریعہ اور محدث کبیر کی جی بھرکر لعن و طعن کیا ۔ اسی بندے نے صوبہ گجرات کے ایک مقام پر کافروں کے رام کتھا میں شریک ہو کر رام اور سیتا کی خوب تعریف و توصیف بیان کی وغیرہ وغیرہ ۔ اس آخری بیان پر تاج الشریعہ اور محدث کبیر کے علاوہ تقریباً ۴۰، ۵۰ مفتیان کرام نے اس نام نہاد خطیب کی تکفیر فرمائی غرضیکہ یہ شخص صحابیٔ رسول ، علماء ومشائخ اور مفتیان کرام کا بہت بڑا گستاخ اور بے ادب ہے، اور جماعت اہلسنت کا توڑنے والا ہے۔جب تک یہ شخص اپنے تمام خرافات شنیعہ سے علی الاعلان توبہ و رجوع کر کے درست نہ ہو جائے اس وقت تک مسلمانوں پر اس شخص سے دور و نفور رہنا لازم و ضروری ہے۔
فقیر قادری عفی عنہ‘
۱۴؍محرم ۱۴۴۴؁ھ مطابق۱۳؍اگست ۲۰۲۲؁ء اہلسنت 

کیا آپ نے کِلکِ رضا کا تعاون کیا؟
اگر نہیں تو اِس طرف بھی کچھ توجہ کیجیے  کیونکہ کسی بھی مشن کو جاری رکھنے کیلئے اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے!
اس کے بغیر کام کرنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ہر منصوبے پر عمل نہیں ہوپاتا۔ نیچے بٹن پر کِلک کریں:-

Don`t copy text!