حضور شیخ الاسلام کی خدمت میں

حضور شیخ الاسلام کے وضاحت نامے کا علمی جائزہ!
از:مفتی شمشاد احمد مصباحی، جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

۲۵ جولائی ۲۰۲۲  ءکوحضور شیخ الاسلام کے جانشین کی طرف سے ایک وضاحت نامہ شوشل میڈیا پر پڑھنے کو ملا۔ وضاحتی بیان پڑھ کر آنکھوں کو نور، دل کو سرور حاصل ہوا مگر وضاحتی بیان اور ویڈیو والے بیان میں عدم مطابقت دیکھ کر حیرت بھی ہوئی۔ ویڈیو میں جو جواب دیا گیا ہے، وضاحتی بیان اس سے ہٹ کر ہے۔ اگر یہی صاف ستھرا جواب حضور والا نے ویڈیو میں عنایت فرمایا ہوتا تو نہ کوئی اختلاف ہوتا نہ اشتباہ، اور جس حصہ پر اختلاف یا اشتباہ ہے اس کی وضاحت تحریری بیان میں کہیں نظر نہیں آئی۔ حضور والا نے ویڈیو میں فرمایا تھا کہ:
’’ذبیحہ جوحرام ہے، وہ کسی کافر کا حرام ہے، گمراہ کا نہیں، جب تک اس کی گمرہی حد کفر کو نہ پہونچی ہو‘‘ آگے ارشاد فرمایا:’’وبابی ایک گمراہ جماعت ہے، اس کی گمرہی میں کوئی شک نہیں مگر ان وہابیوں میں کون درجہ کفر تک پہونچا؟ جب ہمارے جلیل القدر علماء نے ان کی پہچان کرائی تو صرف پانچ ہیں۔‘‘ مزید ارشادفرمایا: ’’آپ یقین جانیے اور امید رکھیے، جتنے ذبیحہ کرنے والے ہیں وہ درجہ کفر تک نہیں پہونچے ہیں، لہذ اس میں کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا ذبیحہ حلال ہے۔‘‘پورے بیان کا خلاصہ اور نچوڑ یہی ہے۔
اس ویڈیو پر جاری بحث کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ وہابی صرف پانچ کیسے ہیں؟ اور کس اعتبار سے؟ اور کون کون ہیں؟
مگر وضاحت نامہ اس بیان سے یکسر خالی، آخر ان پانچوں کا نام اور وجہ حصر بتانے سے کیا چیز مانع ہے؟ اگر ان پانچ سے مراد وہ ہیں جن کی تکفیر نام بنام حسام الحرمین میں مذکور ہے تو اس میں قادیانی کیسے داخل؟ قادیانی الگ اور وہابی الگ، اور کیا قادیانی فرقہ کا ایک فرد بھی ایسا مل سکتا ہے جو قادیانی ہو اور کافر نہ ہو، صرف گمراہ ہو؟ قادیانی کہتے ہی اس کو ہیں جومرزا غلام احمد قادیانی کو معاذ اللہ نبی مانتا ہو، اور اگر قادیانی کے بجائے اسمٰعیل دہلوی کولیکر پانچ مراد ہیں تو پھر صدیق حسن بھوپالی اور میاں نذیر حسین دہلوی اور ان کے امثال جو بحکم فقہا کافر ہیں، ان کو کیوں نہیں شمار کیا گیا، وجہ فرق کیا ہے؟
اور پھر جن کو حسام الحرمین میں کافر کلامی لکھا گیا اسی کے ساتھ یہ بھی فرما دیا گیا
من شک فی کفرہ و عذابه فقد کفر تو اس وقت سے لیکر آج تک کوئی وہابی، دیو بندی اس قاعدہ کلیہ کے تحت حضور والا کی تحقیق کے مطابق داخل کفر ہے یا نہیں؟ اگر داخل ہے تو ویڈیو اور وضاحتی بیان میں اس کا ذکر آنا چاہیے تھا، مگر دونوں میں اس بیچ والی کڑی کا کہیں ذکر نہیں۔ اگر داخل نہیں تو حسین احمد ٹانڈوی، محمود الحسن دیوبندی، منظور سنبھلی، قاری طیب سابق مہتمم دارالعلوم دیو بند، مرتضٰی حسن دربھنگی، عاشق الہی میٹھی، انور شاہ کشمیری، ارشاد احمد سابق مبلغ دارالعلوم دیوبند، طاہر گیاوی اور ان کے امثال جو پوری زندگی حفظ الایمان، براہین قاطعہ، تحذیر الناس وغیرہ کی کفریات قطعیہ کلامیہ کوحق اور قائلین کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے مناظرے کرتے رہے، اسی طرح وہ تمام علمائے وہابیہ، دیابنہ جوطواغیت اربعہ کے کفری اقوال پر مطلع ہوتے ہوئے بھی ان کو نہ صرف مسلمان بلکہ اپنا پیشوا مانتے رہے، حضور والا کے نزدیک ان کا کیا حکم ہے؟
اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ یہ انہیں میں سے ہیں جن کی بدعت حد کفر کو پہونچ چکی ہے اور حضور شیخ الاسلام نے ان کو کافر فرمایا ہے، تو پھر پانچ میں حصر کی وجہ کیا تھی؟ جواب اسی طور پر دیا جا تا جو وضاحت نامے میں ہے، نہ کوئی اختلاف ہوتا نہ اشتباہ !!!
مگر حضور والا نے اس پر زیادہ زور صرف فرمایا کہ:
’’جتنے ذبیحہ کرنے والے ہیں وہ در جہ کفر تک نہیں پہونچے، وہ صرف گمراہ ہیں مگر مسلمان ہیں، لہذ اس میں کرید کرنے کی ضرورت نہیں، ان کا ذبیحہ حلال ہے۔ ‘‘
چونکہ حضور والا کے نزدیک بھی اعلیٰ حضرت کا قول مسلم ہے، تو اعلیٰ حضرت کے اس قول کا کیا مطلب ہے؟
’’اب وہابیہ میں ایسا کوئی نہ رہا جس کی بدعت حد کفر سے گری ہو، خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلد۔‘‘
( فتاوی رضویہ جلد سوم ص ۱۰۷)
نیز اس قول کی کیا وضاحت کی جائے گی؟
’’طوائف مذکورین و ہابیہ و نیچریہ و قادیانیہ وغیرمقلدین و دیوبندیہ و چکٹرالویہ۔۔۔۔۔۔۔قطعاً یقینا کفار ومرتدین ہیں، ان میں ایک آدھا اگرچہ کافر فقہی تھا اور صدہا کفر اس پر لازم تھے، جیسے اسمٰعیل دہلوی مگر اتباع واذناب میں اصلاًً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقیناً اجماعاً کافرِ کلامی نہ ہوا۔“
( فتاوی رضویہ جلد ششم ص۹۰ )
اسی جلد میں ہے :
’’بلا شبہ! طائفہ تالفہ غیرمقلدین گمراہ بددین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شفائے امام قاضی عیاض و بزاریہ مجمع الانہر و درمختار وغیرہا میں ہے 
من شک في كفره وعذابه فقد كفر‘‘
(فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۳۳)
آج کے دور میں جب یہ بیان دیا جائیگا کہ ’’جتنے وہابی ہیں وہ صرف گمراہ ہیں، ان کا ذبیحہ حلال ہے‘‘ تو اہلِ علم میں بے چینی بڑھے گی کیوں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا جنہوں نے ردِّ وہابیہ ودیابنہ میں عظیم کارنامہ انجام دیا، ان کے اقوالِ کفریہ کی جس دِقت نظر اور باریک بینی سے تحقیق فرمائی اور ان کے اقوال کفریہ میں کون صریح متبین ہے اور کون صریح متعین، اس کی تعیین میں جس وفور علم، زور استدلال و قوت اجتہاد سے کام لیا، دور دور تک اس کی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ وہ اپنے دور کے وہابیہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’اب ان میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت حد کفر تک نہ پہونچ گئی ہو‘‘ بلکہ ایک مقام پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے دنیا کا احاطہ کرتے ہوئے یہاں تک فرمادیا: ’’دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسا نہ ہوگا جس پر فقہائے کرام کے ارشادات سے کفر لازم نہ ہو‘‘ الخ
(رسالہ ازالۃ العارمشمولہ فتاویٰ رضویہ، جلد ششم ص۲۶۱ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی)
مذکورہ بالا عبارات میں وہابی، دیو بندی، نیچری، چکڑالوی وغیرہ باطل فرقوں پر اعلیٰ حضرت نے مطلقاً حکم کفر عائد فرمایا، کیوں کہ ایک مخصوص باطل فرقہ ہونے کی حیثیت سے ان کا جماعتی حکم، کفر و ارتداد ہے، اسی پر ذبیحہ اور نکاح کا حکم بھی متفرع ہے، ویڈیو میں بھی سوال وہابی کے ذبیحہ کے بارے میں تھا، لہٰذا اس کا مختصر جواب یہ ہوتا کہ:
’’وہابی کا ذبیحہ حرام ومردار ہے۔‘‘ تو بہت اچھا ہوتا اور اس مختصر کو سمجھنے کے لئے علاقے کے علماء کی طرف رجوع کی حاجت پیش نہ آتی، اور اِس وقت علماء حضرات خود اس مختصر کو سمجھنے میں مضطرب ہیں تو دوسروں کی کیا رہنمائی فرمائیں گے۔
جب اعلیٰ حضرت کے دور میں ایسا کوئی وہابی نہیں تھا جس کی بدعت حد کفر کو نہ پہونچی ہو، بلکہ دنیا کے پردے پر ایسا کوئی وہابی نہیں جو بحکم فقہا کافر نہ ہو تو آج کے دور میں جتنے وہابی ہیں وہ کیوں کر صرف گمراہ قرار پائے؟ اور ان تمام کا ذبیحہ بلا تحقیق کیسے حلال ہو گیا؟ جب کہ اعلیٰ حضرت کے دور میں وہابیت کا اتنا پھیلاؤ نہیں تھا جتنا آج ہے اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ جب مطلقاً و بابی کے ذبیحہ کا حکم پوچھا جائے تو جواب میں وہ حکم بیان کیا جائے گا جوان کے جماعتی حکم پر متفرع ہو یعنی ذبیحہ کا حرام و مُردار ہونا۔ فتاویٰ رضویہ میں موجود اس سوال و جواب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ فتاوی رضویہ میں سوال ہوا کہ
’’زید معاذاللہ یہ کہے کہ میں عیسائی یا وہابی یا کافر ہوجا ؤنگا‘‘ زید نے ایک فرقہ کا نام لیا تو اعلیٰ حضرت نے جواب عطا فرمایا:
’’جس نے جس فرقہ کا نام لیا اس فرقہ کا ہو گیا۔‘‘
(جلد ششم صفحہ نمبر ۱۰۲)
سوال چونکہ مطلق تھا اس لئے اعلیٰ حضرت نے بھی جواب کو مطلق رکھا، اس کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی، ہمارے علماء وفقہاء نے جہاں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ اگر اس کی بدعت حد کفر کو پہونچی ہو تو اس کا ذبیحہ حرام اور نہ پہونچی ہو تو حلال، تو یہ تفصیل ہر جگہ کے لئے نہیں ہے، وہاں کے لئے ہے جہاں سوال میں مذکور شخص معین کے شخصی احوال تفصیل و تحقیق کے متقاضی ہیں، یہاں مفتی پر واجب ہے کہ اس شخص اور فرد کے احوال کی تفصیل کے اعتبار سے حکم جاری کرے مگر جہاں جماعتی حکم پوچھا جائے وہاں جماعتی حکم بتایا جائے گا، وہاں تحقیق کی حاجت نہیں، تحقیق کے یہ سارے مراحل بہت پہلے طے ہو چکے۔
وضاحتی بیان میں فتاویٰ رضویہ اور فتاویٰ شارح بخاری سے دو عبارتیں جو نقل کی گئی ہیں وہ خود میرے دعوی پر روشن دلیل ہیں۔ دونوں فتوؤں میں سوال میں مذکور شخص معین کے شخصی احوال کے پیش نظر تفصیل کی گئی ہے کہ
’’اگر اس کی بدعت حد کفر کو پہونچ گئی ہو تو نکاح حرام و باطل ۔۔۔۔۔ اگر نہ پہونچی ہو تو گمراہ ہے، کافر نہیں، اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے۔‘‘ ملخصاً۔ (یہ تفصیلی سوال و جواب فتاویٰ رضویہ جلد۸ ص ۳۲۹، ۳۳۰ پر دیکھا جاسکتا ہے)
اس فتوے میں سوال اُس ذبیحہ کے بارے میں ہے جو کسی شیعہ کا ذبح کیا ہوا ہے اور اس کے گھر سے آیا ہے۔ اسی لئے اعلیٰ حضرت تفصیل بیان فرمارہے ہیں۔ وضاحت نامہ میں فتویٰ کا صرف آخری حصہ نقل کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضور شیخ الاسلام کا وہی موقف ہے جو اعلیٰ حضرت کا ہے۔
مگر یہ تفصیل اعلیٰ حضرت نے سوال میں مذکور شخص معین کے شخصی احوال کے پیش نظر کی ہے کہ جس شیعہ کا ذبیحہ ہے اس کے عقائد ونظریات کیا ہیں، اگر یہ عقائد و نظریات ہیں تو یہ حکم، اگر یہ عقائد نہیں ہیں تو یہ حکم بھی نہیں، اس عبارت کومحل استشہاد میں پیش کرنا بے محل۔
کیوں کہ ویڈیو میں سوال کسی فرد اورشخص کے ذبیحہ کا نہیں، وہاں وہابی جماعت کے ذبیحہ کا سوال ہے۔ تکفیر شخصی اور تکفیر جماعتی میں بہت فرق ہے، جیسے لعن شخصی اور لعن وصفی میں بہت فرق ہے۔ کسی شخص کا نام لےکر اس وقت تک لعنت جائز نہیں جب تک کفر پر اس کی موت کا قطعی اور یقینی علم نہ ہو اور یہ علم یا تو قرآن سے ہوگا یا حدیثِ متواتر سے، جیسے ابولہب، ابوجہل کا کفر پر مرنے کا یقین، جبکہ لعن وصفی کے لئے یہ شرط نہیں، جھوٹوں پر بھی لعنت کرنا جائز ہے اگر چہ وہ مسلمان ہوں۔ جیسے لعنة الله على الكاذبين
مسئلہ تکفیر شخصی حد درجہ احتیاط کا متقاضی ہے، اسی لئے اعلیٰ حضرت یہاں تحقیق وتفصیل فرمارہے ہیں جبکہ اسی فتوے کا آغاز ان الفاظ میں کر رہے ہیں:
’’آج کل کے رافضی تبرائی علی العموم کافر و مرتد ہیں، شاید ان میں گنتی کے ایسے نکلیں جو اسلام سے کچھ حصہ رکھتے ہوں‘‘ الخ (جلد ۸ ص ۳۲۹)
یہ فتوے کا ابتدائی حصہ جماعتی حکم کی طرف مشعر ہے۔ حضور شارح بخاری کے منقولہ فتویٰ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ سوال میں پوچھا گیا کہ:
’’ایک لڑکی وہابی کے گھر سے بلا تجدیدِ ایمان بیاہ کر لائی گئی ہے نیاز، فاتحہ، میلاد تعظیم کی قائل ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میں اپنے شوہر کے مذہب پر ہوں مگر بلاتکلف اپنے گھر والوں کے پاس جاتی بھی ہے۔ اس کے نکاح، اس کے ہاتھ کا کھانا، مرجائے تو جنازہ پڑھنا کیسا ہے؟‘‘
ظاہر ہے کہ یہ لڑکی مشتبہ و متہم ہوئی تو مطلقاً حکم کفر کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ اس لئے حضور شارح بخاری نے یہاں تفصیل کی کہ:
’’جب تک تحقیق سے یہ ثابت نہ ہو کہ طواغیتِ اربعہ کے اقوال کفریہ پر مطلع ہو کر ان کو مسلمان مانتی ہے یا ان کے کفر و عذاب میں شک کرتی ہے، تب تک کافر ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔‘‘ شارح بخاری نے آگے فرمایا:
’’مزید اطمینان کے لئے تحقیق کرلی جائے، میرا ظنِ غالب یہی ہے کہ یہ لڑکی بھی ان کفری عبارتوں سے واقف نہیں ہوگی، اور جب وہ کہتی ہے کہ میں اپنے شوہر کے مذہب پر ہوں تو اسے سنی ہی مانا جائے گا۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی ایسے شخص پر جو بالکل جاہل، انپڑھ، گنوار ہو، وہا بیت و دیوبندیت کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو، اسکی تکفیر نہیں کی جاسکتی، جب تک کہ طواغیت اربعہ کے کفریات پر مطلع ہوکر ان کو مسلمان نہ مانے یا ان کے کفر و عذاب میں شک نہ کرے، چونکہ یہ تکفیر شخصی کا مسئلہ ہے، اس لئے غایت درجہ تحقیق ہوگی، مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ ذبیحہ کرنے والے سارے وہابی ایسے ہی ہیں، یہ غلط۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے:
’’ہاں! اگر واقعی میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل، یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا تو اس وقت تک معذور ہے جب تک سمجھانے سے فورا حق قبول کرے۔‘‘ (جلد ۴ نصف ص ۳۱۳)
اس کا مطلب یہ ہے کہ سمجھانے پر اگر فوراً حق قبول نہیں کرتا تو وہ بھی معذور نہیں اور نہ ہی اس کا ذبیحہ حلال۔
آج کل کے وہابیوں کو کوئی صاحب سمجھا کر دیکھ لیں۔ بارہا کا تجربہ ہے، سمجھانے کے باوجود اپنے علماء کے کفری اقوال کو کفری نہیں مانتے، ان کے کفر و عذاب کا اقرار نہیں کرتے، طرح طرح کے حیلے بہانے بناتے ہیں، بلکہ ان کو مسلمان ہی جانتے ہیں، اب ایسے وہابیوں کا ذبیحہ کیسے جائز ہوسکتا ہے؟
اس صورتِ حال میں علما پر لازم ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ذبیحہ کرنے والوں کی خوب چھان بین کریں اور اسی کے مطابق قوم کی رہنمائی فرمائیں اور جب تک خوب اطمینان کامل نہ ہو جائے، نہ خود ان کا ذبیحہ استعمال کریں نہ قوم کو استعمال کرنے کی اجازت دیں، نہ یہ کہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر یہ عذر پیش کریں کہ ہمیں ان کے کفر پر اطلاع شرعی نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ایک دوسرے مقام پر ایک مشکوک و مشتبہ آدمی کی تحقیق کا حکم دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:
’’اگر کسی وجہ سے شبہ ہو تو صرف ان کی قسموں پر قناعت نہ کریں، بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی و نذیرحسین دہلوی و رشید احمد گنگوہی و قاسم نانوتوی و اشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیارالحق و براہین قاطعہ وتحذیرالناس وحفظ الایمان و بہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے؟ اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں، یہ کتابیں کفر و ضلالت سے بھری ہوئی ہیں تو ظاہر یہی ہے کہ وہابی نہیں، ورنہ ضرور وہابی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ جلد ششم ص۷۹)
اب بتایا جائے کہ ان دونوں فتوؤں میں جو کچھ تحقیق و تفصیل ہے وہ سوال میں مذکور شخص معین کے شخصی احوال کے پیشِ نظر ہے یا نہیں؟
یہاں تحقیق و تفصیل کی ضرورت تھی۔ اس طرح کی صورت حال جہاں جہاں پیش آئے گی، مفتی تحقیق وتفصیل کے ساتھ ہی جواب دے گا، جبکہ ویڈیو میں جو سوال ہوا وہ ایک فرقہ کے ذبیجہ سے متعلق تھا، لہٰذا جواب بھی اسی نہج پر ہونا چاہیے تھا مگر اتنا گھما پھیرا کر جواب عطا کیا گیا کہ بہت سارے لوگوں کو اشتباہ ہوگیا اور رفعِ اشتباہ کے لئے جو وضاحت آئی، اس میں ضروری باتوں کا جواب ہی نہیں۔
ہوسکتا ہے کہ کوئی یہ سوال کرے کہ فتاویٰ رضویہ میں بہت سے مقامات پر جواب میں تفصیل موجود ہے، مطلقاًحکم کفر نہیں، جب کہ وہاں شخصی احوال کے پیش نظر سوال بھی نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہابی اپنے ابتدائی دور میں بہت محدود تھے، ان کا عقیدہ بھی بہت زیادہ مشتہر نہیں ہوا تھا، ان کی جماعت میں رہنے، ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے باوجود بھی بہت سارے لوگ ان کے کفری عقیدے سے ناواقف تھے۔ اس لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے اس وقت جواب میں تفصیل فرمائی۔ پھر جب وہابی خوب پھیل گئے، ان کا عقیدہ بھی ہر طرف مشہور ہوگیا اور پھر دھیرے دھیرے وہ دیوبندیوں کے کفریاتِ قطعیہ کلامیہ میں شریک ہوتے گئے، تو اعلیٰ حضرت نے مطلقاً ان کے کفر و ارتداد کا حکم صادر فرمادیا اور یہ بھی فرمادیا کہ:
’’اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہو‘‘ کہیں فرمایا : ’’مگر اب اتباع واذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقیناً اجماعاً کافر کلامی نہیں۔‘‘ کہیں فرمایا:
’’دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسا نہ ہوگا جس پر فقہائے کرام کے ارشادات سے کفر لازم نہ ہو۔‘‘
مذکورہ بالا عبارات سے ظاہر ہو گیا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے وہابیوں سے متعلق جواب میں جو تفصیل بیان فرمائی اس کی دو وجہ ہے:
(۱) یا تو وہ فتویٰ بہت پہلے کا ہوگا،
(۲) یا سوال میں مذکورشخص معین کے شخصی احوال کے پیش نظر ہو گا
اور جہاں یہ دونوں باتیں نہیں، وہاں اعلیٰ حضرت نے وہابی، دیو بندی پر حکم کفر مطلقاً نافذ فرمایا۔ مثال کے طور پر یہی فتوی دیکھیں:
’’طوائف مذکورین وہابیہ و نیچریہ و قادیانیہ ۔۔۔۔۔۔ قطعاً یقیناً کفار مرتددین ہیں۔ ان میں ایک آدھ اگرچہ کافر فقہی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اتباع و اذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں جو قطعاً یقیناً اجماعاً کافرِ کلامی نہ ہو۔‘‘ (فتوی رضویہ، جلد ششم ص۹۰)
یہ اعلیٰ حضرت کے وصال مبارک سے ایک سال پہلے کا فتویٰ ہے۔ اس میں ۱۳۳۹ ھ کی تاریخ درج ہے اور جن فتوؤں میں تفصیل ہے وہ پہلے کے فتاویٰ ہیں یا وہاں شخصی احوال متقاضی تھے کہ جواب میں تفصیل ہو۔ شخصی احوال کو دیکھ کر آج بھی تفصیل کی جائے گی، مطلقاً حکمِ کفر نہیں لگایا جائے گا مگر جب وہابی، دیوبندی فرقے کا مطلقاً حکم پوچھا جائے گا تو جواب میں مطلقاً کفر و ارتداد کا حکم ہوگا۔ شخصی احوال کے پیش نظر فتاویٰ رضویہ سے ایک مثال اور ملاحظہ فرمائیں۔ فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ ایک شخص قسم کھا کر کہتا ہے :
’’میں مسلمان ہوں، وہابی نہیں، اللہ کو ایک جانتا ہوں، رسول اللہ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں، حنفی مذہب کا پابند ہوں، جولوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اور اللہ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟‘‘ امام اہل سنت نے جواب میں تفصیل فرمائی، ارشاد فرماتے ہیں: ’’اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی، نہ کوئی وجہ شبہ کی ہے تو بلاوجہ شبہ نہ کیا جائے۔ بدگمانی حرام ہے، اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہو جائے گی، وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور اگر کسی وجہ سے شبہ ہے، تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی و نذیرحسین دہلوی و رشید احمد گنگوہی و قاسم نانوتوی و اشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیارالحق و براہین قاطعہ وتحذیرالناس وحفظ الایمان و بہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے؟ اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں، یہ کتابیں کفر و ضلالت سے بھری ہوئی ہیں تو ظاہر یہی ہے کہ وہابی نہیں، ورنہ ضرور وہابی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ جلد ششم ص۷۹)
غور فرمایا جائے، اعلیٰ حضرت اس مقام پر بھی جب کہ شخص مذکور فی السوال قسم کھا کر کہتا ہے کہ: ’’میں مسلمان ہوں، وہابی نہیں‘‘ الخ پھر بھی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ’’ اگر کسی وجہ سے شبہ ہے، تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی و نذیرحسین دہلوی و رشید احمد گنگوہی و قاسم نانوتوی و اشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیارالحق و براہین قاطعہ وتحذیرالناس وحفظ الایمان و بہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے؟ اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں، یہ کتابیں کفر و ضلالت سے بھری ہوئی ہیں تو ظاہر یہی ہے کہ وہابی نہیں، ورنہ ضرور وہابی ہے۔‘‘
آج کے دور میں جب کہ وہابیہ دیابنہ بہت سے مقامات پر گوشت کی دکان چلانے کے لئے تقیہ کرکے سنی بنے ہوئے ہیں اور اپنی لڑکیوں کی شادی سنی بتا کر سنیوں میں کر دیتے ہیں، آج کے دور میں اور زیادہ تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہے۔
اعلیٰ حضرت سطورِ بالا میں تحقیق کا حکم دیں اور حضور والا فرمائیں کہ ”کرید کی ضرورت نہیں، جتنے ذبیحہ کرنے والے وہابی ہیں، وہ صرف گمراہ ہیں، ان کا ذبیحہ حلال ہے۔‘‘
فرمایا جائے کہ یہ مشورہ مصلحتِ شرعیہ و فتاویٰ رضویہ کی تصریحات کے مطابق ہے یا اس کے برخلاف ہے؟ جب کہ ذبیحہ کا مسئلہ حد درجہ احتیاط کا متقاضی ہے۔ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، اور ذبیحہ میں اصل حرمت۔ جب تک ذابح کا مسلمان ہونا اور بطریق شرعی ذبح کرنا ثابت نہ ہو، ہرگز ہرگز ذبیحہ حلال نہ ہوگا۔
اس مقام پر سوال یہ ہے کہ ذابح سنی ہے یا نہیں؟ اس کا عقیدہ کیا ہے؟ جب تک تحقیق نہ کی جائے اطمینان کیسے حاصل ہوگا کہ ہم سنی مسلمان کا ذبیحہ خرید ر ہے ہیں اور کھار ہے ہیں یا کسی وہابی، دیوبندی کا؟ کم از کم اپنے اپنے علاقوں میں تحقیق کی جاسکتی ہے، یہ کوئی مشکل کام نہیں مگر حضور والا نے ذبیحہ کے مسئلے میں کرید کرنے سے منع فرمایا، جب کہ وہابیہ کے اکابر واصاغر تقیہ کرنے میں مشہور ہیں۔ اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں:
’’آج کل وہابیہ وغیرھم مبتدعین میں تقیہ بہت رائج ہے، خصوصاً جہاں روٹی کا معاملہ ہو، روٹی کے لئے دین بیچنا ان کے نزدیک بہت آسان ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ جلد ۹ ص ۲۳۹)
واضح ہو کہ یہ میری طرف سے دوسری اور آخری تحریر ہے۔ میری طرف سے اس موضوع پر اب کوئی تحریر نہیں آئے گی۔ اگر حضور والا مناسب سمجھیں تو ان معروضات پر بھی نظرِکرم فرما دیں، تاکہ تمام شبہات کا ازالہ ہو سکے۔ اللہ رب العزۃ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ ( آمین )

شمشاد احمد مصباحی
خادم: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی
۲۸ ؍ذی الحجہ ۱۴۴۳ ھ،
۲۸ جولائی ۲۰۲۲ء بروز جمعرات

حضرت سید مدنی میاں کا  وضاحت نامہ دیکھنے کیلئے کِلک کریں:


یہ وضاحت نامہ کس بات کا ہے؟
حضرت مولانا سید مدنی میاں صاحب نے کیا بیان دیا تھا؟
ان کی آواز میں سنیے!

 

حضرت سید مدنی میاں کی اس  آڈیو میں کیا ہے؟ تحریر میں پڑھیے:
سید مدنی میاں صاحب سے سوال ہوا:

وہابی کا ذبح کیا ہوا کھانا درست ہے، جائز ہے؟
سید مدنی میاں نے جواب دیا:
’’پتہ نہیں آپ لوگ کیا جواب سوچتے ہوں گے؟ اب خطرناک کوئی جواب آنے والا ہے۔ خطرناک کوئی جواب آنے والا ہے۔ سوال ہی ایسا ہے نا! میں بتاؤں مختصر۔ اس مختصر کو نہ آپ سمجھ سکیں تو اپنے علاقے کے علماء سے سمجھیں۔ میں چند منٹوں میں آپ کو نہیں سمجھا سکتا۔ سمجھے۔ ذبیحہ جو حرام ہے، وہ کسی کافر کا ذبیحہ۔ کسی کافر کا ذبیحہ۔ وہ حرام ہے۔ گمراہ بہت سے ہیں۔ گمراہوں کی لسٹ بناؤ بڑی لمبی چوڑی ہوگی۔ مگر ہر گمراہ کافر نہیں ہے۔ ہر گمراہ کافر نہیں ہے جب تک کہ اس کی گمراہی کفر تک نہ پہنچ جائے۔ کسی شخص کے بارے میں آپ کو یہ یقین ہو کہ اِس نے کفر کیا ہے اور اس کفر کی آپ کو اطلاع شرعی ہو، بالکل شک نہ ہو۔ تو ایسے کے ہاتھ کا ذبیحہ آپ نہیں استعمال کر سکتے، مگر جس کے بارے میں آپ کو خبر ہی نہ ہو، جب خبر ہی نہیں ہو تو اس کو آپ کافر نہیں کہہ سکتے۔ اور جب کافر نہیں کہہ سکتے تو مسلمان کہنا پڑے گا۔ جو کافر نہیں ہے وہ مسلمان ہے۔ اب جب مسلمان ہے تو اس کا ذبیحہ بھی ٹھیک ہے۔ تو یہ سب چیزیں بہت باریکی سے سمجھنے کی ہوتی ہیں۔ کسی پر ایسے الزام لگا دے کر کوئی حکم نہیں دیا جاسکتا۔ آپ نے وہابی کا نام لے لیا۔ وہابی ایک گمراہ جماعت ہے، اس کی گمراہی میں کوئی شک نہیں۔ مگر اُن وہابیوں کے اندر کون درجہ کفر تک پہنچا؟ ہمارے جیلیل القدر علماء، جب انھوں نے پہچان کرائی، تو صرف پانچ ہیں، درجہ کفر تک پہنچنے والے پانچ ہیں اور ان کا کفر ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ ان کی کتاب مشہور ہے۔ وہ پانچ، اُن کی پیروی کرنے والے جو اُن کے کفر کو نہیں جانتے، وہ بھی کافر نہیں۔ کافر ہونے کیلئے ان کا کفر جاننا ضروری ہے۔ یہ پانچ تو ہیں وہ جنھوں نے کفر کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں پانچ ہزار، پانچ لاکھ ہوں گے وہ جو ان کے پیچھے چل رہے ہیں مگر وہ جانتے ہی نہیں کہ انھوں نے کیا کفر کیا۔ جب جانتے نہیں تو اُس کا کچھ نہیں۔ وہ گمراہ رہیں گے۔ ان سے بچنا ضروری ہے۔ ان سے، گمراہ سے دور رہنا اچھا ہے، ضروری ہے، لازمی ہے، وہ سب بات صحیح ہے۔ مگر شرعی مسئلہ اگر آپ پوچھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کیسا ہے؟ تو اس کیلئے تو کفر کا قطعی علم ہونا چاہیے اور جو کسی کو ہوتا نہیں ہے۔ سمجھے آپ نہیں ہوتا۔ بہت سارے مولوی حضرات بھی ہیں، ان کو بھی نہیں ہوتا۔ وہ نہیں جانتے، کفر کو نہیں جانتے۔ اب سوچیے اتنی بڑی دنیا میں صرف پانچ کو کافر کہنا اور باقی کو گمراہ کرکے چھوڑ دینا، اس میں بھی تو کوئی حکمت ہے۔ اس میں تو کوئی مصلحت ہے۔ تو آپ نے جو سوال کیا ہے، ذبیحے والا معاملہ، آپ یقین جانیے اور امید رکھیے کہ جتنے ذبیحہ کرنے والے ہیں وہ درجہ کفرتک نہیں پہنچے ہیں۔ لہٰذا اُس میں کرید کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ جاہل جھپٹ آدمی کتابوں کو نہ سمجھ پائے، نہ وہ سمجھ سکیں کیا کفر ہے کیا ایمان ہے؟ ایسے جاہل جھپٹ کے بارے میں پوچھتے ہیں ان کا ذبیحہ؟ اِن میں تو اُن کو ذبیحہ مت کردیجیے کہ انھیں کا ذبیحہ ہوجائے۔ سمجھے مگر ان کاذبیحہ جو ہے، شرعی نقطہ نظر سے اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اب کوئی نہ کرے، کہا کہ صاحب ہم تو نہیں، تو یہ آپ کی اپنی مرضی بات۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم زبردستی آپ کو کھلائیں گے۔ ایسا بھی نہیں۔ تو عام حالات کو دیکھیے اگر، ظاہری حالات کو اگر دیکھیے، تو یہ لوگ صرف گمراہ ہیں، عوام۔ جن پر کفر کے فتوے ہیں وہ اور ہیں، وہ اور ہیں۔ اُن کا علم بھی یہ لوگ نہیں جانتے، اُن کا صحیح نام بھی یہ نہیں جانتے۔ وہ اور ہیں، وہ اپنی جگہ پر ہیں۔ یہ صرف گمراہ ہیں، بھٹکے ہوئے ہیں۔ ان کو محبت اور خلوص کے ساتھ سمجھائیے، اپنے راستے پر لائیے، یہ ہمارا فریضہ بنتا ہے۔‘‘

وہابی کے ذبیحہ کے مسئلے میں سید مدنی میاں صاحب کے درج بالا بیان کے تناظر میں حضرت علامہ مفتی شمشاد احمد مصباحی صاحب قبلہ (جامعہ امجدیہ، گھوسی) کی سنجیدہ و علمی تحریر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں جو صحیح مسئلہ کو بالکل واضح کردیتی ہے۔

وہابی کا ذبیحہ

آج کل شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ خوب گردش کر رہی ہے جو حضورشیخ الاسلام کی طرف منسوب ہے۔ گوکہ ویڈیو حجت شرعیہ نہیں مگر اب تک حضور والا کی طرف سے نفی میں یا پھر اجمال کی تفصیل میں کوئی بیان نہیں آیا جس کاواضح مطلب ہے کہ یہ بیان اپنے جمیع اجزا کے ساتھ حضور والا کی طرف سے جاری وثابت ہے ۔ذرائع ابلاغ وترسیل کی برق رفتاری کو دیکھتے ہوئے بیان مذکور سے عدم واقفیت کا امکان بھی ’’نہ ‘‘کے برابر ہے ۔

بیان میں وہابی کے ذبیحہ کے تعلق سے سوال ہوا تو جواب میں حضور والا نے ارشاد فرمایا: ’’ذبیحہ جو حرام ہے ،وہ کسی کافر کا حرام ہے ،گمراہ کا ذبیحہ حرام نہیں جب تک اس کی گمرہی حد کفر کو نہ پہنچی ہو۔ ‘‘مزید فرمایا : ’’وہابی ایک گمراہ جماعت ہے، اس کی گمراہی میں کوئی شک نہیں ،مگر ان وہابیوں میں کو ن درجہ کفر تک پہونچا؟جب ہمارے جلیل القدر علما نےان کی پہچان کرائی تو وہ صرف پانچ ہیں ،درجہ کفر تک پہونچنے والے صرف پانچ ہیں۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’ذبیحہ کے حرام ہونے کے لئے کفر کا قطعی علم ہونا چاہئیے جو کسی کو ہوتا نہیں ہے ،بہت سارے مولوی حضرات کو بھی نہیں ہوتا ہے۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں: ’’ آپ یقین جانئے اور امید رکھئے کہ جتنے ذبیحہ کرنے والے ہیں وہ درجۂ کفر تک نہیں پہونچے ہیں ۔لہذا اس میں کرید کرنے کی ضرور ت نہیں ۔ان کا ذبیحہ حلال ہے۔‘‘
یہ تھا حضور شیخ الاسلام کے جواب کا خلاصہ!!!
اس جواب سے سنجیدہ علما میں اضطراب ہے ۔اس جواب کو سننے کے بعد عام آدمی کے مطلع ذہن وفکر پر یہ تأثر ابھرتا ہے کہ پانچ وہابی کے علاوہ عام وہابی کا ذبیحہ حلال ہے ،حرام ومردار نہیں ۔اب تک جو بتایا گیا تھا کہ وہابی کا ذبیحہ مثل خنزیر حرام ومردار ہے وہ غلط ہے۔

جب کہ اصول افتا ورسم المفتی میں یہ پڑھایا گیا ہے کہ مفتی کا جواب سوال کے مطابق ہونا چاہئے اور جواب ایسا مجمل بھی نہ ہونا چاہئے جو کسی غلط فہمی اور شبہ کو راہ دے جب کہ یہاں دونوں باتیں مفقود ۔

یہاں سوال وہابی کے ذبیحہ کے تعلق سے ہے اور وہابی اپنے مخصوص کفری عقائد کے سبب ایک باطل فرقہ کی حیثیت سے متعارف ہے جو اسلام سے خارج اور کافر ومرتد ہے ۔

میری ناقص رائے میں یہاں ذبیحہ کا وہ حکم بیان ہونا چاہئے جو وہابی فرقہ کے جماعتی حکم پر متفرع ہے یعنی ذبیحہ کا حرام ومردار ہونا ، ظاہر ہے یہاں سوال اس جماعت کے ذبیحہ سے متعلق ہے جس پر لفظ ’’وہابی ‘‘بولا گیا ہےاور جب مطلقا وہابی بولا جاتا ہے تو اس سے وہابی فرقہ مراد ہوتا ہے جیسے وہابی کا مدرسہ ،وہابی کی مسجد، توجواب میں بھی اس پہلو کی رعایت لازم تھی ۔اور یہی روشِ فقہی کا تقاضا تھا۔ ہاں !جو بالکل جاہل ہیں یا جنہیں کبرائے وہابیہ کے اقوال کفریہ وعقائد باطلہ پر یقینی اطلاع نہیں وہ وہابی نہیں اور نہ ہی ان کے ذبیحہ کے بارے میں سوال میں پوچھا گیا ہے ،تو جواب سوال کے مطابق نہیں ۔اگر قادیانی کے ذبیحہ کے بارے میں سوال ہوتو سیدھا سادہ جواب یہ ہوگا کہ قادیانی اپنے اقوال کفریہ کے سبب کافر ومرتد ہیں اور ان کا ذبیحہ حرام ومردار ۔ وجہ وہی ہے کہ قادیانی اسلام سے خارج ایک باطل فرقہ ہے ،جو کافر ومرتد ہے اور ان کے ذبیحہ کا وہی حکم ہے جو کافر ومرتد کے ذبیحہ کا حکم ہے ۔

ہاں ! جب کسی فرد پر وہابی یا دیوبندی یا قادیانی کا الزام لگاتے ہوئے کوئی ان کے ذبیحہ کا حکم پوچھے تو اب مفتی پر لازم ہے کہ اس کی تحقیق وتفصیل کرے اور بہر تقدیر اس کا جو حکم شرعی ہو بیان کرے ۔

یہ بھی واضح رہے کہ وہابیہ کی دوشاخیں ہیں
(۱)وہابیہ مقلدین یعنی دیوبندی
(۲)وہابیہ غیر مقلدین یعنی نام نہاد سلفی،اہل حدیث

وہابیہ مقلدین کے بانیان میں رشید احمد گنگوہی ،قاسم نانوتوی، اشرف علی تھانوی ،خلیل احمد انبیٹھوی شمار کئے جاتے ہیں جن کی نام بہ نام تکفیر کلامی حسام الحرمین میں درج ہے ۔

کیایہی وہ کبرائے وہابیہ ہیں جن کی تعداد جلیل القدرعلما کی نشاندہی کے مطابق پانچ بتائی جارہی ہے؟ جب کہ ان کی تعداد پانچ نہیں چار ہے ۔

رہا مرزا غلام احمد قادیانی تو اگر چہ یہ بھی کافر ومرتد ہے مگر اس کا شمار وہابی جماعت میں نہیں ہوتا ۔وہ خود قادیانی فرقے کا بانی ہے۔ اس کی بھی تکفیر کلامی حسام الحرمین میں درج ہے،اگر مرزاغلام احمد قادیانی کے بجائے اسمعیل دہلوی کو شمار کرکے پانچ میں حصر کا دعوی کیا گیا ہے جیسا کہ یہی ظاہر ہے تو یہ دعوائے حصر بھی دعوائےمحض ہے۔اسمعیل دہلوی جیسے کئی افراد ایسے ہیں جن کا کفر ان کی کتابوں میں چھپا ہے جیسے صدیق حسن بھوپالی ،اس نے اللہ کے لئے جہت ومکان مانا ،فقہ حنفی کو باطل اور ناحق جانا،قیاس شرعی اور اجماع قطعی کا انکار کیا ،اس کا مشہور قول ہے ’’قیاس فاسد واجماع بے اثر آمد‘‘مقلدین کو مشرک اور بے ایمان بتایا، کم وبیش یہی نظریہ مولوی سعید بنارسی، مولوی ابوالقاسم بنارسی،کلانوری غیر مقلد کا بھی ہے ۔

یہ سب کے سب عند الفقہا کافر ہیں۔اسی حکم میں میاں نذیر حسین دہلوی بھی داخل ہے ۔تفصیل کے لئے الکوکبۃ الشہابیۃ، سل السیوف الہندیہ والنہی الاکید وغیرہا کتب کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے ۔

یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ وہابیہ غیر مقلدین اگر چہ اپنے ابتدائی دور میں جماعتی طور پر کافر فقہی تھے مگر بعد کے ادوار میں جیسے جیسے وہ دیوبندیوں کے عقائد میں شریک ہوتے گئے حکم ،کفر فقہی سے کفر کلامی کی طرف منتقل ہوگیا اور فتاوی رضویہ میں دونوں حکم موجود ہے ۔اعلی حضرت امام احمد رضا فرماتے ہیں:

’’طائفہ تالفہ غیر مقلدین گمراہ بددین اور بحکم فقہ کفارومرتدین جن پر بوجوہ کثیرہ لزوم کفر بین مبین‘‘ (جلد ششم ،ص ۳۳)

ایک مقام پر اس طرح رقم طراز ہیں:

’’سوال :غیر مقلدین سب کے سب کافر ہیں ؟
جواب :ان میں ضروریات دین سے کسی شئی کا جو منکر ہے، یقینا کافر ہے اور جو قطعیات کے منکر ہیں ان پر بحکم فقہا لزوم کفر ہے ‘‘ (جلد ششم ،ص۳۲)

بلکہ رسالہ’’ الکوکبۃ الشہابیہ ‘‘ میں ستر (۷۰)وجوہ سے ان پر اور ان کے پیشوا پر بحکم فقہائے کرام لزوم کفر ثابت کیا ہے۔
(جلد ششم،ص۱۲۱)
ایک مقام پر یوں ارشاد فرماتے ہیں :
’’غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکرِ ضروریاتِ دین ہیں وہ تو بالاجماع کافر ہی ہیں ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفر فرماتے ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ ،جلد ہشتم ،ص۳۳۲)

اس قسم کی عبارتیں فتاوی رضویہ میں کثیر ہیں ،استقصاءمقصود نہیں ،مگر پھر جب ان کے احوال بدلے حکم بھی بدل گیا۔
اعلی حضرت امام احمد رضا ارشاد فرماتے ہیں :
’’ان دیار میں وہابی ان لوگوں کوکہتے ہیں جواسمعیل دہلوی کے پیرو اور اس کی کتاب تقویۃ الایمان کے معتقد ہیں۔یہ لوگ مثل شیعہ ،خارجی ،معتزلہ وغیرہم اہل سنت وجماعت کے مخالف مذہب ہیں ،ان میں سے جس شخص کی بدعت حد ِکفر تک نہ ہو، یہ اس وقت تک تھا، اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اس میں ان کے موافق یا کم از کم ان کے حامی یا انہیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلدہو یا بظاہر مقلد ‘‘(جلد ۳،ص ۱۷۰)

اسی لئے بہت سی جگہوں پر بغیرکسی قید وتفصیل کے یہ فرمایا کہ وہابیہ کا ذبیحہ حرام ومردار ،مثل خنزیر ہے (جلد ۸،ص۳۳۹)

ان عبارات سے ان مولویوں کا بھی اشتباہ دور ہوجاناچاہئے جو اعلی حضرت امام حمد رضا کی عبارتوں میں تعارض سمجھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضانے کہیں وہابیوں پر مطلقًا حکمِ کفر عائد کیا اور کہیں قیود وشرائط کے ساتھ ۔

مذکورہ بالا عبارتوں سے جب وہابیہ کی دونوں شاخوں کا حکم واضح ہوگیا تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ ان کے ذبیحہ کے حرام ومردار ہونے میں کوئی شبہ نہیں ،چاہے وہابیہ مقلدین کا ذبیحہ ہو، یاغیر مقلدین کا ،چاہے حسام الحرمین میں ان کی تکفیر درج ہو،یا نہ ہو ،وہ علما ہوں یا عوام۔اگر وہ وہابی عقیدے پر ہیں تو ان کا جماعتی حکم یہی ہے کہ ان کا ذبیحہ حرام ومردار ہے ۔برتقدیر وہابی ،دیوبندی نہ تحقیق کی ضرورت ،نہ تفصیل کی حاجت۔جہاں حکم باعتبار جماعت ہو وہاں تحقیق کی ضرورت نہیں ۔جب فرد اور شخص کے بار ے میں سوال ہوگا تو تحقیق وتفصیل کی بنیاد پر حکم ہوگا ۔

اس مقام پر یہ بات بھی قابل حیرت ہے کہ مسئلہ ذبیحہ میں صرف پانچ کو کافر مان کر باقی سب کو گمراہ وبدمذہب قرار دیا گیا اور حکم کفر کے ثبوت کو اطلاع شرعی پر معلق کردیاگیا ،اور ان پانچوں کا نام بھی نہیں ذکر کیا گیا ۔

اس سے یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ جب تک ذابح اس درجہ کا کافر نہ ہو جو حسام الحرمین میں مذکور ہیں تو اس کا ذبیحہ حرام نہیں ہوگا جب کہ مسئلہ ذبیحہ میں کافر کلامی اور کافر فقہی دونوں کا حکم ایک ہے کیونکہ ذبیحہ کا حرام ہونا یا حلال ہونا حکمِ فقہی ہے ۔لہذا جو بحکمِ فقہا کافر ہوگا اس کا ذبیحہ بھی حرام ہوگا جب کہ متکلمین کے مذہب پر وہ کافر نہیں ۔اعلی حضرت امام احمدرضاقدس سرہ دونوں قسم کے کافروں کے ذبیحہ کا حکم ایک ساتھ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :
’’قادیانی صریح مرتد ہیں۔ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزامِ کفر ہے اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے خصوصًا وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو ،یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہا ئے کرام کے طور پر حرام ومردار کا کھانا ہوگا ،لہذا احتراز لازم ہے ۔‘‘
(فتاوی رضویہ ،جلد ۸،ص۳۳۲)

مذکورہ بالا تفصیلات سےاہل فہم پر روشن ہوگیا ہوگا کہ وہابی، دیوبندی کا ذبیحہ مطلقا حرام ومردار ہے ،چاہے وہ کافر کلامی ہو، یا کافر فقہی ،چاہے اس کی تکفیر کسی کتاب میں مذکور ہو یانہ ہو ،اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ اب کوئی وہابی ایسانہیں جس کی بدعت حد کفر تک نہ پہونچ گئی ہو ،ضروریاتِ دین کا انکار اور اللہ ورسول جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں یہ وہابی ،دیوبندیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اس لئے نکاح ،نماز، ذبیحہ اور جملہ احکام میں یہ انہیں کے مثل ہیں جن کی تکفیر حسام الحرمین میں درج ہے ۔

یہی حکم موجودہ دور میں ان کے علما ،واعظین ،مناظرین ،مبلغین،مدرسین،مصنفین اور ان طلبہ اور عوام کا ہے جو طواغیت اربعہ کے اقوال کفریہ پر یقینی اطلاع رکھتے ہوئے ان کو اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کے اقوال کی تاویلیں کرتے ہیں یا کم ازکم ان کو مسلمان مانتے ہیں ، یا ان کے کفر وعذاب میں شک کرتے ہیں ،یہ سب کافر ومرتد ہیں اور ان کی تعداد لاکھوں میں ہے ،بلکہ ان کے خواص تو خواص پڑھے لکھے عوام بھی ہم سنیوں کو عقیدۂ علم غیب ،عقیدۂ حاضروناظر اور عقیدۂ توسل کی وجہ سے مشرک مانتے ہیں تو کیا اہل سنت کو مشرک کہنے والے صرف گمراہ ہیں ؟اور ان کا ذبیحہ حلال ہے ؟

ہاں! اگر ایسا کوئی شخص ان میں پایا جائےجو بالکل کچھ نہیں جانتا جس کا حضور والا نے ذکر کیا تو اس کی تکفیر نہیں ہوگی اور ذبیحہ حلال ہوگا ۔اعلی حضرت امام احمد رضا کافر کلامی اور کافر فقہی کا حکم لکھنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں :
’’اگر کوئی غیر مقلد ایسا پایاجائے کہ صرف انہیں فرعی اعمال میں مخالف ہو اور تمام عقائد قطعیہ میں اہل سنت کا موافق ،ایسوں پر حکمِ تکفیر ناممکن ۔‘‘(فتاوی رضویہ ،جلد ۶،ص۳۲)

آج کے دور میں جب کہ وہابی ،دیوبندی حشرات الارض کی طرح پھیلے ہوئے ہیں ،نگر نگر،ڈگر ڈگر ،گاؤں گاؤں ،شہر شہر دیوبندیت، وہابیت کی تبلیغ میں سرگرم ہیں ،اپنے مذہب کے فروغ کے لئے جگہ جگہ اجتماعات وجلسے کررہے ہیں، کثیر تعداد میں جگہ جگہ مدارس اور مساجد بنوا رہے ہیں ،بہت سے سادہ لوح سنی حضرات نماز،روزہ کی محبت میں ان کے اجتماعات وجلسوں میں شریک ہوکر ان کے ہم خیال ہوتے چلے جارہے ہیں ،کیا یہ ضروری نہیں کہ ذبیحہ کی جانچ کی جائے؟ جب کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے اور ذبیحہ میں اصل حرمت ،یعنی ذبیحہ اصل میں حرام ہے جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو کہ اس کا ذابح مسلمان ہے اور شرعی طریقہ پر ذبح کیا ہے۔

اس لئے حضور والا کی بارگاہ میں بصد ادب واحترام عرض ہےکہ کلیۃً یہ مشورہ نہ دیا جائے کہ ’’جتنے ذبیحہ کرنے والے ہیں وہ درجہ کفر تک نہیں پہنچے ہیں ،لہذا اس میں کرید کرنے کی ضرورت نہیں ،ان کا ذبیحہ حلال ہے۔ ‘‘ ایسا مشورہ دینا مصلحت شرعیہ کے خلاف ہے بلکہ مقتضائے شرعی یہ ہے کہ اس دور میں جب کہ وہابیت، دیوبندیت ہر طرف پھیل چکی ہے ،بہت سے وہابی، دیوبندی گوشت کی دوکان چلانے کے لئے تقیہ کرکے سنی بنے ہوئے ہیں، تو ایسی صورت میں علما کو یہ مشورہ دینا چاہئیے کہ مسلمان خوب تحقیق اور چھان بین کے بعد ہی ذبیحہ استعمال کریں ۔ بلکہ جس شخص کی سنیت مشتبہ ہو اس کے پاس جاکر علمائے دیوبند کے اقوال کفریہ بیان کرکے ان اقوال کے کفری ہونے اور قائلین کے کافر ہونے کا اعتراف کروایاجائے ۔ اگر کرلے تو ٹھیک ورنہ اس کے ذبیحہ کو حرام سمجھا جائے ۔

نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ احباب وتلامذہ کے مسلسل اصرار پر یہ چند سطور بطور تطفل اس بے مایہ کی طرف سے پیش ہیں۔اگر اس میں کوئی بات یا کہیں اندازِ بیان نامناسب ہوگیا ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔میں حضور والا کے علم وفضل اور بلندوبالا معیارِ تحقیق کا دل سے معترف ہوں اور رب کی بارگاہ میں حضور والاکی صحت ودرازیٔ عمر کے لئے دعا گو ہوں ۔

فقط شمشاد احمد مصباحی
خادم :جامعہ امجدیہ ،رضویہ گھوسی ،
ضلع مئو (یو،پی)
۱۸؍ذی الحجہ ۱۴۴۳؁ھ مطابق
۱۸؍جولائی ۲۰۲۲؁ءبروزدوشنبہ

وہابی کے ذبیحہ کے مسئلے میں سید مدنی میاں صاحب کے بیان کے تناظر میں حضرت علامہ مفتی شہزاد عالم رضوی صاحب قبلہ (جامعۃ الرضا، بریلی شریف) کی سنجیدہ و علمی تحریر ضرور ملاحظہ فرمائیں جو صحیح مسئلہ کو بالکل واضح کردیتی ہے۔ نیچےکِلک کریں:

نیچے کِلک کرکے ایک شاندار مضمون پڑھیے جس میں بتایا گیا ہے کہ شیخ الاسلام حضرت علامہ سید مدنی میاں صاحب  کے بتائے ہوئے ضابطے کے مطابق عام دیوبندی وہابی بھی کافر ہیں اور ان کا ذبیحہ ناجائز و حرام مثل مردار ہے۔

نیچے کِلک کرکے سنیے کہ توقیر رضا نے صاف اعلان کردیا کہ:
’’شیعہ، سنی، وہابی، اہلحدیث، یہ تمام میرے نزدیک مسلمان ہیں!‘‘
معاذاللہ

کیا آپ نے کِلکِ رضا کا تعاون کیا؟
اگر نہیں تو اِس طرف بھی کچھ توجہ کیجیے  کیونکہ کسی بھی مشن کو جاری رکھنے کیلئے اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے!
اس کے بغیر کام کرنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ہر منصوبے پر عمل نہیں ہوپاتا۔ نیچے بٹن پر کِلک کریں:-

Bahar e Shariat Mukammal Ghar Baithe Discount Hadiye Me Hasil Karne Ke Liye Niche Click Karen.

Hum Aap se Guzarish Karte Hain Ke Aap Hame Koi Paigam Ya Message Dijiye ya Kum se Kum Apna WhatsApp Number Dijiye Taa ke Hum Aap Ko Direct Msg Bhej Saken. Sab se Pahle Aap Hamara Number Save kijiye:-

(+91) 96070 23653

Ab Aap Apna WhatsApp No. Aur Naam Wagaira Dijiye.

    Don`t copy text!