سید مدنی میاں اشرفی صاحب سے پوچھا گیا کہ وہابی سے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟ جواب میں آپ نے کہا کہ ابھی تک یہی واضح نہیں ہوسکا کہ وہابی کون ہے اور سنی کون ہے؟ اور اصل سوال کا جواب اخیر تک نہیں دیا بلکہ جو کچھ کہا اس سے یہی محسوس ہوا کہ وہابی سے نکاح کی اجازت دی ہے۔
سید مدنی میاں کے مذکورہ بیان کے تناظر میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں حضرت علامہ مولانامفتی بلال انور رضوی مدظلہ العالی (جامعۃ الرضا و مرکزی دارالافتاءبریلی شریف) نے قرآن و حدیث کے ارشادات بالخصوص فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ایک زبردست تحریر لکھی جس سے واضح ہوتا ہے کہ جو اپنے آپ کو وہابی کہے یا خود کو وہابیہ میں شمار کرے، اس سے نکاح جائز نہیں۔
مکمل تحریر ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
بدمذہبوں سے نکاح جائز یا ناجائز؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حضور مفتی صاحب قبلہ! میں نے حضور شیخ الاسلام دامت بر کاتہم العالیہ کی ایک کلپ سنی ہے جس میں حضرت نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ ابھی یہ مسئلہ واضح ہی نہیں ہو سکا کہ سنی کون اور وہابی کون ہے ؟ سوال وہابی سے نکاح کے تعلق سے کیا گیا ہے ، مگر جواب میں کہیں نہیں فرمایا کہ جائز ہے یا نہیں ؟ حضور میں کلپ بھیج رہا ہوں، سن کر تشفی بخش جواب عنایت فرمایا جائے۔
الجواب اللهم هداية الحق والصواب
الحمد لاھلہ والصلوۃ علی اھلھا
سائل نے پہلے کلپ بھیجی اور اس کا جواب طلب کیا تو زبانی جو اب دیا گیا، پھر کہا کچھ تحریر کر دیں تو میں نے یہی چند سطور جواہاً لکھے۔ اس کے بعد یہ سوال مرتب کر کے اس کا جواب چاہا تو بتر میم الفاظ یہ جواب دیا گیا۔ جو درج ذیل ہے:
آپ نے جو کلپ بھیجی اور سننے کو کہا، فقیر نے جب سنا تو سنتے ہی پیروں تلے زمین کھسک گئی اور میں انتہائی متفکر ہوا کہ آخر ایک کے بعد ایک یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ابھی وہابی کے ذبیحے کا مسئلہ زوروں پر ہے پھر یہ ایک دو سر امسئلہ ؟
اس میں سید شاہ مدنی میاں قبلہ زید مجدہ سے سوال ہوا:
وہابی کا سنیہ سے یا سنی کا وہابیہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر نکاح پڑھانے والا وہابی ہو تو کیا حکم ہے؟
سوال میں دو جزء ہیں:
(۱) وہابی کا نکاح سنیہ سے یا سنی کا نکاح وہابیہ سے۔
(۲) نکاح پڑھانے والا وہابی ہو تو کیا حکم ہے۔
پہلے جزء کا جواب دیتے ہوئے حضرت سید شاہ مدنی میاں قبلہ زید مجدہ نے دو باتیں ایسی سطحی ارشاد فرمائیں کہ جنہیں خواص کیا عوام بھی قبول نہیں کر سکتے۔
اول : ابھی یہ مسئلہ ہی واضح نہیں ہو سکا کہ وہابی کون ہے سنی کون ہے؟ یہ عوام کے سمجھنے کی بات ہے؟
دوم : جس کو وہابی کہا جاتا ہے، اس نے ابن عبدالوہاب کی کوئی کتاب بھی پڑھی؟ اور وہابی ہو گیا؟
سب سے پہلی بات یہ کہ سوال نکاح کی بابت تھا تو جواب یہ دیا جانا چاہیے تھا کہ نکاح جائز ہے یا ناجائز۔ لیکن جواب ختم ہو گیا مگر کہیں یہ نہیں فرمایا کہ مناکحت جائز یا نا جائز۔ ہرگز یہ طریقۂ افتا نہیں۔
قول اول کی وضاحت مطلوب ہے!
وہابیت و سنیت تو متعین لیکن کون وہابی کون سنی ہے یہ متعین نہیں، کیا معنی رکھتا ہے؟
جہاں وہابیت متعین اسی کو وہابی کہتے ہیں پھر تعیین کس طور پر ہوگی؟ نیز ایسے سوال کے جواب میں یہ کہنا اور جائز و نا جائز کہنے سے بچنا، ضرور حکم اباحت کی جانب مشعر ہے۔
قول دوم انتہائی انتہائی انتہائی سطحی ہے!
کیا کسی فرد کے وہابی ہونے کے لیے ابن عبد الوہاب کی کتاب کا پڑھنا شرط ہے؟ اگر ہاں تو کس فقیہ نے ایسا لکھا؟ بر سبیل تنزل اگر کوئی ایسا شخص ہے جو انہی طواغیت اربعہ کےعقائد کا معتقد ہے مگر انہیں جانتا بھی نہیں، کیا اسے مسلمان کہا جائے گا؟
اگر ان کی کتابوں کا پڑھنا شرط وہابیت نہیں اور ہرگز نہیں، تو پھر اسے ایسے محل میں بیان کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟
المختصر یہ کہ حضرت سید شاہ مدنی میاں قبلہ زید مجدہ نے جو مسئلہ بیان کیا، فتاویٰ رضویہ کی صراحتوں کے سامنے ہرگز ہرگز لائق اعتبار نہیں۔
اسی طرح کا ایک فتویٰ بہار و بنگال کے سرحدی علاقے سے تقریباً دس سال سے پیشتر مستفتی افتخار اور مفتی ذوالفقار (ماموں بھانجے) کی طرف سے شائع ہوا تھا جس کے رد میں مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف کے شیخ الحدیث مظہر صدر العلماء منظور نظر مفتی اعظم اسم با مسمی حضرت مفتی محمد صالح صاحب رضوی نوری بریلوی اطال اللہ عمرا و کرامۃ نے خلیفہ تاج الشریعہ حضرت مفتی شاعر رضا صاحب قبلہ استاذ و مفتی جامعۃ الرضا کی کاوش اور اصرار پر ایک رسالہ بنام “خیر خواہانہ تبصرہ” مرتب فرما کر یہ واضح فرمایا کہ وہابیہ سے مناکحت مطلقاً جائز نہیں۔
باب مناکحت میں سید مدنی میاں قبلہ زید مجدہ کا فتویٰ فتاویٰ رضویہ کی تصریحات کے ہوتے ہوئے ہرگز لائق عمل و اعتبار نہیں بلکہ جواب مذکور کا غلط و باطل ہونا ظاہر ہے۔
فتاویٰ رضویہ کے بعض اقتباسات درج ذیل ہیں:
’’(سوال) جوشخص وہابیہ سے میل جول اور باہمی شادی بیاہ رکھتا ہو اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ وہابی ہے، اس کے یہاں شادی بیاہ کرسکتے ہیں جبکہ یہ معلوم ہے کہ وہابیہ سے اس کا میل جو ل ہے۔ بینوا توجروا
الجواب: وہابیہ سے میل جول رکھنے والا ضرور وہابی ہے کہ وہابیہ کو گمراہ بد دین نہیں جانتا تو خود گمراہ بد دین ہے اور اس کے ساتھ مناکحت ہو ہی نہیں سکتی۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ پنجم ص ۱۷۲)
سوال سے سوال اور جواب سے جواب کو ملا کر انصاف کی نظر سے دیکھیں۔ کیسے صاف، جلی اور مؤکد لفظوں میں بیان فرمایا “مناکحت ہو ہی نہیں سکتی”
دوسری جگہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا:
“دنیا کے پردے پر کوئی وہابی ایسا نہ ہوگا جس پرفقہائے کرام کے ارشادات سے کفرلازم نہ ہو اور نکاح کا جواز، عدم جواز نہیں مگر ایک مسئلہ فقہی، تو یہاں حکمِ فقہا یہی ہوگا کہ ان سے مناکحت اصلاً جائز نہیں خواہ مرد وہابی ہو، یا عورت وہابیہ اور مرد سنی، ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اس باب میں قول متکلمین اختیار کرتے ہیں اور ان میں جو کسی ضروری دین کا منکر نہیں، نہ ضروری دین کے کسی منکر کو مسلمان کہتا ہے، اسے کافرنہیں کہتے مگر یہ صرف برائے احتیاط ہے، دربارہ تکفیر حتی الامکان احتیاط اس میں ہے کہ سکوت کیجئے، مگر وہی احتیاط جو وہاں مانع تکفیر ہوئی تھی، یہاں مانع نکاح ہوگی کہ جب جمہور فقہائے کرام کے حکم سے ان پر کفر لازم توا ن سے مناکحت زنا ہے تو یہاں احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے دور رہیں اور مسلمانوں کو باز رکھیں، للہ انصاف کسی سنی صحیح العقیدہ معتقد فقہائے کرام کا قلب سلیم گوارا کرے گا کہ اس کی کوئی عزیزہ کریمہ ایسی بلا میں مبتلا ہوجسے فقہائے کرام عمر بھر کا زنا بتائیں۔”
( فتاویٰ رضویہ پنجم ۲۶۰ ۔۲۶۱ )
اس کے صفحہ ۲۶۰ پر ہے: ”پھر یہ عقائد باطلہ و مقالات زائغہ جب ان حضرات کے اصول مذہب ہیں تو کسی وہابی صاحب کا ان سے خالی ہونا کیونکر معقول؟“
ایک اور جگہ جواب کا انداز ملاحظہ فرمائیں:
” اگر ایسے عقائد خود نہیں رکھتا مگر کبرائے وہابیہ یا مجتہدینِ روافض خذلہم اللہ تعالی ٰکہ وہ عقائد رکھتے ہیں، انھیں امام وپیشوا یا مسلمان ہی مانتا ہے تو بھی یقیناً اجماعاً خود کافر ہے کہ جس طرح ضروریاتِ دین کا انکار کفر ہے، یونہی ان کے منکر کو کافر نہ جاننا بھی کفر ہے۔”
(فتاویٰ رضویہ پنجم ص ۲۵۸ )
دیکھیں کہ اعلیٰ حضرت نے کیسے کیسے عبرت بھرے جملے ارشاد فرمائے اور سنیوں کی بیٹیوں کو بلائے عظیم سے بچایا۔
اخیر میں تحقیقِ رضا اور مسلکِ رضا ملاحظہ فرمائیں جو اس بابت حرف آخر ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
’’اگر نظر تحقیق کو رخصت جولاں دیجئے تو بدمذہب سے سنیہ کی تزویج ممنوع ہونے پر شرع مطہر سے دلائل کثیرہ قائم ہیں مثلاً:
دلیل اول:قال عزوجل واما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین
اور اگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
بد مذہب سے زیادہ ظالم کون ہے اور نکاح کی صحبت دائمہ سے بڑھ کر کون سی صحبت، جب ہر وقت کا ساتھ ہے، اور وہ بدمذہب، تو ضرور اس سے نادیدنی دیکھے گی، ناشنیدنی سنے گی اور انکار پر قدرت نہ ہوگی اور اپنے اختیار سے ایسی جگہ جانا حرام ہے جہاں منکر ہو اور انکار نہ ہوسکے، نہ کہ عمر بھر کے لیے اپنے یا اپنی قاصرہ مقسورہ عاجز مقہورہ کے واسطے اس فضیحہ شنیعہ کا سامان پیدا کرنا۔
دلیل دوم:قال تبارک وتعالیٰ ومن اٰیتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ
اللہ کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمھیں میں سے تمھارے جوڑے بنائے کہ ان سے مل کر چین پاؤ اور تمھارے آپس میں دوستی و مہر رکھی۔
اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان للزوج من المرأۃ لشعبۃ ماھی لشئی رواہ ابن ماجۃ والحاکم عن محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالٰی عنہ عورت کے دل میں شوہر کے لیے جو راہ ہے کسی کے لیے نہیں (اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔)
آیت گواہ ہے کہ زن وشوئی وہ عظیم رشتہ ہے کہ خواہی نخواہی باہم انس ومحبت الفت و رافت پیدا کرتا ہے اور حدیث شاہد ہے کہ عورت کے دل میں جو بات شوہرکی ہوتی ہے کسی کی نہیں ہوتی، اور بدمذہب کی محبت سم قاتل ہے۔‘‘
( فتاویٰ رضویہ پنجم ص ۲۶۴ )
اعلی حضرت قدس سرہ کا فیصلہ :
’’الحمد ﷲ آفتاب حق بے حجاب سحاب متجلی ہوا اور دلائل واضحہ سے نہ صرف وہابی بلکہ ہر بدمذہب کے ساتھ سنیہ کی تزویج کا باطل محض یا اقل درجہ ممنوع وگناہ ہونا ظاہر ہوگیا، ہاں ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہلسنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں، اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو، بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء، مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیونکر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہلسنت ہیں، عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے یافلاں نصرانی، مومن ہے، جب سنیت، وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیونکر ممکن ہے۔ “
(فتاوی رضویہ نجم ۲۷۱)
اب جو یہ کہتے ہیں ہمارا عقید ہ وہ نہیں، نیز ایسوں کی حمایت میں یہ کہنا کہ وہابی کون سنی کون یہ متعین نہیں ۔ اعلیٰ حضرت کے بیان کر دہ جنت سنت کے آٹھ دروازوں میں داخل کر کے دیکھا جاسکتا ہے۔ اعلی حضرت قدس سرہ نے فرمایا:
”جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں، امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں،کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں،
(۱) مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔
(۲) پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی بٹالی پنجابی بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔
(۳) تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔
(۴) تقلید ائمہ فرض قطعی ہے بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے، غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں محض سفیہان نامشخص ہیں ان کا تارک تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترک تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔
(۵) مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے، کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے، وہ ضرور صراط مسقیم پرہے، اس پرشرعاً الزام نہیں ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے تقلید شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ ضالین متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔
(۶) متعلقات انبیاء واولیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نےجو احکام شرک گھڑے اورعامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے یہ ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انھیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔
(۷) زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں، امر محمود جب واقع ہو محمود ہے اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو، اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو، بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو، جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا، کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔
(۸) علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔ حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں، جو صاحب بے پھیرپھار بے حیلہ انکار بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں، ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائیگا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا، مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا، اس کے کیا معنی ؎ منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن ۔“
مذکورہ اقتباسات اس باب میں صریح ہیں کہ جو اپنے آپ کو وہابی کہے یا خود کو وہابیہ میں شمار کرے، اس سے مناکحت جائز نہیں۔
لہٰذا شیخ الاسلام سید مدنی میاں صاحب قبلہ زید مجدہ نے جو انداز بیان اختیار فرمایا اس سے جواز کی راہ ہموار ہوتی ہے۔اس لئے اس پر نظر ثانی فرما کر رجوع کی درخواست ہے۔
والله تعالیٰ اعلم
فقیر ابو حنظلہ محمد بلال انور رضوی پلاموی غفرلہ القوی
خادم التدریس والافتاء جامعۃ الرضا و مرکزی دارالافتاء
بریلی شریف، مؤرخہ۳۰ ذی الحجہ ۱۴۴۳
وہابی سے نکاح کے بارے میں سید مدنی میاں نے کیا فرمایا تھا؟
ان کی آواز میں سنیے!
کیا قادیانی کا ذبیحہ کھایا جاسکتا ہے؟
یہ سوال اس لئے پوچھا جارہا ہے کیونکہ وہابی کے ذبیحہ کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر سید مدنی میاں اشرفی صاحب نے صرف پانچ لوگوں کو کافر کہا( جبکہ ان کا نام نہیں بتایا) اور ان کے ماننے والوں کو کافر کہنے یا سمجھنے سے منع کیا اور ان کا ذبیحہ بلاکراہت جائز بتایا۔ اب اگر ان پانچ سے مراد وہ ہیں جن کی تکفیر نا م بنام حسام الحرمین میں مذکور ہے، تو اس میں ایک مرزا غلا احمد قادیانی بھی ہے۔
❓تو کیا سید مدنی میاں کے نزدیک قادیانی کا ذبیحہ بھی کھایا جاسکتا ہے؟ جبکہ قادیانی کہتے ہی اس کو ہیں جومرزا غلام احمد قادیانی کو معاذ اللہ نبی مانتا ہو!
اس طرح کے کئی اہم سوالات سید مدنی میاں اشرفی کے وہابی کے ذبیحہ والے بیان کے بعد عوام و خواص کے ذہن میں ابھر رہے ہیں جن کے جواب وہی دے سکتے ہیں کیونکہ انھیں کے بیان کے تناظر میں یہ سوال اُبھرے ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف سے اطمینان بخش جواب آنے کے بعد ہی عوام میں پھیلی بے چینی ختم ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل جاننے کیلئے کِلک کریں:
نیچے کِلک کرکے سنیے کہ توقیر رضا نے صاف اعلان کردیا کہ:
’’شیعہ، سنی، وہابی، اہلحدیث، یہ تمام میرے نزدیک مسلمان ہیں!‘‘ معاذاللہ
کیا آپ نے کِلکِ رضا کا تعاون کیا؟
اگر نہیں تو اِس طرف بھی کچھ توجہ کیجیے کیونکہ کسی بھی مشن کو جاری رکھنے کیلئے اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے!اس کے بغیر کام کرنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور ہر منصوبے پر عمل نہیں ہوپاتا۔ نیچے بٹن پر کِلک کریں:-
Bahar e Shariat Mukammal Ghar Baithe Discount Hadiye Me Hasil Karne Ke Liye Niche Click Karen.
Hum Aap se Guzarish Karte Hain Ke Aap Hame Koi Paigam Ya Message Dijiye ya Kum se Kum Apna WhatsApp Number Dijiye Taa ke Hum Aap Ko Direct Msg Bhej Saken. Sab se Pahle Aap Hamara Number Save kijiye:-
(+91) 96070 23653
Ab Aap Apna WhatsApp No. Aur Naam Wagaira Dijiye.
